اسلام آباد
وکلاء ایمان مزاری، ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری، ہائیکورٹ بار کے صدرو سیکرٹری پر تشدد کے خلاف ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس میں وکلاء کی ہڑتال، جوڈیشل کمپلیکس سے ایس ایس پی آفس تک مارچ، ضلع کچہری میں پولیس کا داخلہ بند کردیا گیا۔گذشتہ روز اسلام آباد بار کونسل، اسلام آباد ہائی کورٹ و ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز کی کال پر وکلاء نے ہڑتال کی، ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں میں صرف ارجنٹ کیسزمیں پیش ہوئے جبکہ روٹین کے کیسز میں ہڑتال کے باعث سماعتیں ملتوی کردی گئیں، ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے باہر صدر واجد علی گیلانی اور دیگر وکلاء احتجاجی پلے کارڈ اٹھائے کھڑے رہے، ہائیکورٹ بار کے سیکرٹری منظور احمد ججہ نے کہاکہ وکلاء نے مکمل ہڑتال کی ہے اور عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے، وکلاء اتحاد زندہ باد، پولیس گردی مردہ باد،سینئر قانون دان بابر اعوان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پہلے جج سڑک پر نکلے اب وکیل سڑکوں پر نکلے ہیں،وکلاء کیخلاف ریاست گردی چل رہی ہے،پولیس گردی شروع ہو چکی ہے جو سوسائٹی کے لئیے نقصان دہ ہے،بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار کے زیر اہتمام جوڈیشل کمپلیکس سے ڈی سی آفس سے ملحقہ ڈی آئی جی و ایس ایس پی آفس تک پر امن ریلی نکالی گئی، جس میں ہائیکورٹ بار کے صدر واجد گیلانی، سیکرٹری منظور احمد ججہ، ڈسٹرکٹ بار کے صدر نعیم گجر، سیکرٹری خاور دھنیال، اسلام آباد بار کونسل کے ممبران اور وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی، وکلاء نے پولیس کے خلاف نعرے بازی کی، قبل ازیں اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے احاطہ کچہری میں موجود تمام پولیس اہلکاروں کا جوڈیشل کمپلیکس سے باہر نکال دیا۔واضع رہے کہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے تین روزہ ہڑتال اور پولیس کے جوڈیشل کمپلیکس داخلہ پر پابندی کا اعلان کیا گیا تھا۔
