ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنے بحری دائرہ کار میں توسیع کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے کچھ ساحلی علاقوں کو بھی شامل کر لیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ایک نیا بحری نقشہ جاری کیا گیا ہے جس میں آبنائے ہرمز سے آگے بڑھتی ہوئی توسیع شدہ سمندری حدود دکھائی گئی ہیں، جن میں یو اے ای کے بعض اہم ساحلی حصے بھی شامل ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق ایران نے ایک نئے بحری نقشے کے ذریعے اپنی کنٹرول شدہ سمندری حدود میں توسیع کا دعویٰ کیا ہے، جس میں متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقوں کے کچھ حصے بھی شامل دکھائے گئے ہیں۔ایرانی مؤقف کے مطابق یہ نئی حدود آبنائے ہرمز سے آگے بڑھتی ہوئی خلیجِ عمان تک پھیلتی ہیں، جہاں یو اے ای کے اہم ساحلی شہر فجیرہ اور خورفکان واقع ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ علاقے اب اس کے زیرِ کنٹرول بحری دائرہ کار میں شامل ہیں۔ایرانی حکام کے مطابق فجیرہ اورخورفکان(امارتِ شارجہ کا حصہ) دونوں بندرگاہیں یو اے ای کے لیے اس وقت خاص اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ یہ خلیجِ عمان پر واقع ہیں اور حالیہ کشیدگی کے دوران یو اے ای نے انہی بندرگاہوں کے ذریعے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے تیل کی ترسیل جاری رکھی۔خصوصاً فجیرہ کی بندرگاہ کو اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ ابو ظہبی کروڈ آئل پائپ لائن کے اختتامی مقام پر واقع ہے، جو اندرونِ ملک آئل فیلڈز سے خام تیل یہاں منتقل کرتی ہے۔ اسی نظام کے ذریعے یو اے ای جنگی حالات کے باوجود عالمی منڈیوں کو تیل فراہم کرتا رہا ہے۔ایرانی مؤقف کے مطابق اگر ان بندرگاہوں تک رسائی پر مؤثر کنٹرول قائم کر لیا جائے تو اس سے یو اے ای پر بحری دباؤ میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم اس دعوے پر کسی آزاد یا بین الاقوامی ذریعے سے تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔پیر کو متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور میزائل حملوں کا الزام عائد کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے مطابق ان کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی طرف سے مبینہ طور پر فائر کیے گئے 15 میزائلوں اور چار ڈرونز کو فضا میں ہی ناکارہ بنایا
