17.1 C
Islamabad

لاہور کی فضا: اقتدار اور آلودگی کی تاریخ

”آو، بڑو، سنو کہانی ”
تحریر: قیصر شریف
کنوینر پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی لاہور

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ لاہور شہر کی فضا بھی صحت کے لیے بہترین ہوا کرتی تھی۔ یہ ان وزراء کو تو بالکل بھی پتہ نہیں ہو گا جو 2016 سے پہلے سیاست میں نہیں تھے اور ان بچوں کو بھی پتہ نہیں ہو گا جو اس وقت پانچویں کلاس تک سکول جا رہے ہیں۔ لاہور میں فضائی آلودگی کا آغاز تو کئی سال پہلے سے ہو چکا ہے لیکن مسلم لیگ ن، جس کی حکومت 1990 سے آج تک چند سالوں کے علاوہ تقریبا مسلسل چل رہی ہے، اس سمیت کسی بھی حکومت کے وژن میں کبھی بھی فضائی آلودگی موضوع نہیں رہا۔ بلکہ لاکھوں درخت مختلف وجوہات کو بنیاد بنا کر صرف لاہور شہر سے ختم کئے گئے لیکن اس کا کوئی متبادل انتظام نہیں کیا گیا۔ جی ہاں، میں اسی دور کی بات کر رہا ہوں جب ہمارے ہمسایہ دوست ملک کے شہر بیجنگ کو میڈیا نے Airpocalypse (ایئرپوکلیپس) کہا، یعنی ”فضائی قیامت” در اصل آپ ان دو الفاظ سے ہی صورت حال کی سنگینی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

بیجنگ کے لیے 2013 ایک نئے چیلنج کو سامنے لے کر آ گیا تھا جب دنیا بھر کی نظر، صبح و شام اس پر تھی۔ ایسا کیوں تھا کچھ تفصیلات شیئر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس وقت، جنوری 2013 میں بیجنگ کے ایئر کوالٹی انڈیکس کی سطح 900 تک پہنچ گئی جو صحت کے لیے انتہائی خطرناک تھی۔ کیونکہ اگر ایئر انڈیکس کو سٹڈی کیا جائے تو اس کی شرح صفر سے 50 تک صاف ، 52 سے 100 تک درمیانی ،101 سے 200 تک غیر صحت مند ، 201 سے 300 تک خطر ناک اور اس سے اوپر انتہائی خطرناک تصور کی جاتی ہے۔ ایسے میں آپ 900 ایئر انڈیکس کا خود ہی انداہ لگا لیجیے۔

یہ وہ دن تھے جس وقت لاہور کی فضا ابھی غیر صحت مند والے درجے میں شمار نہیں ہو رہی تھی۔ لاہور اور کراچی فضائی آلودگی میں چین اور بھارت سے بہت بہتر تھے۔ عالمی ادارہ صحت کی طرف سے باقاعدہ درجہ بندی تو 2017 میں شائع ہونا شروع ہوئی لیکن میرا اندازہ ہے کہ 2010 میں اْس وقت عالمی ادارے IQAir یا AirVisual کی باقاعدہ سالانہ فہرست موجود نہیں تھی۔ لیکن میری معلومات کے مطابق پاکستان کا کوئی بھی شہر ٹاپ 30 فضائی طور پر آلودہ شہروں میں شامل نہیں تھا۔ البتہ 2013 میں لاہور نے پہلی بار عالمی سطح پر توجہ حاصل کی کہ یہ شہر Emerging Smog Zone بن چکا ہے۔ لاہور میں PM2.5 کی اوسط سطح تقریباً 68 µg/m³ تھی۔ WHO کا محفوظ معیار صرف 5 µg/m³ ہے۔ یعنی لاہور کی فضا اْس وقت بھی 13 گنا زیادہ آلودہ تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب فوری طور پر اس مسئلہ کو ایڈریس کیا جانا چائیے تھا۔ لیکن ہمارے ہاں تو وژن کا ایشو دیرینہ مسئلہ ہے۔ ہم تو صرف چند نماشائی اقدامات کرنا چاہتے ہیں جس سے تھوڑی سی واہ واہ ہو سکے۔

چلیے، آگے بڑھتے ہیں۔ مختصراً، ہوا یہ کہ ہماری پنجاب حکومت اور لاہور کی شہری انتظامیہ نے اس مسئلہ کو سنجیدہ نہیں لیا لیکن دنیا نے اس مسئلہ پر ہمارے حوالے سے سنجیدگی سے بات کرنا شروع کر دی۔ 2016 میں لاہور شہر عالمی میڈیا پر پہلی دفعہ سموگ سٹی کہلایا۔ اْس وقت لاہور کا اوسط AQI تقریباً 200–300 کے درمیان تھا لیکن اگلے کی سال 2017 میں عالمی ادارہ صحت اور Greenpeace کے ڈیٹا کے مطابق لاہور شہر فضائی آلودگی میں دنیا بھر میں 7 ویں نمبر پر آ گیا۔ ایسے حالات میں بھی ہمارے حکمران بیانات سے آگے نہیں بڑھے۔ یہاں ابھی اس پریشانی کا سفر ختم نہیں ہوا نومبر 2018 میں لاہور کئی دنوں تک AQI 400–450 پر رہا۔ 2019 میں عالمی ایئر کوالٹی انڈیکس کمپنی کے مطابق لاہور دنیا کے 3 بدترین شہروں میں شامل تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب وزیر اعلی تو پی ٹی آئی کے تھے لیکن اس ایشو پر وژن اور اقدامات میں کوئی تبدیلی نہیں تھی۔

چلیے تھوڑا سا آگے بڑھتے ہیں۔ یہ سب میں آپ کو اس لیے یاد کروا رہا ہوں کہ انسان بہت جلد بھول جاتا ہے۔ چلیے آگے دیکھیے، عالمی ادارے ہمارے حوالے سے کیا رائے دیتے ہیں۔ 2020 اور 2021 میں کئی بار لاہور دنیا کا سب سے آلودہ شہر قرار دیا گیا۔ 2021 کے موسمِ سرما میں لاہور کا AQI 500 تک پہنچ گیا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ سطح انسانی صحت کے لیے خطرناک ترین حد تک پہنچ گئی۔ یہ وہ وقت تھا جب لاہور کی فضا میں موجود باریک ذرات PM2.5، PM10 ، سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، اور کاربن مونو آکسائیڈ یہ سب انسانی جسم پر خاموش مگر خطرناک اثر ڈال رہے تھے۔ جس کی وجہ سے شہر لاہور میں دمہ، سانس لینے میں دشواری ، دائمی کھانسی، برونکائٹس کی شکایات عام تھیں اور2024 میں لاہور کے اسپتالوں میں سانس کے مریضوں کی شرح 30 فیصد تک بڑھ گئی۔ بچوں اور بزرگوں میں کھانسی اور دمے کے کیسز دوگنا ہو چکے تھے۔

فضا میں موجود آلودہ ذرات خون میں داخل ہو کر شریانوں کو متاثر کرتے ہیں۔ جس کے نتائج ہائی بلڈ پریشر ،ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جانا ، شریانوں کا سکڑ جانا، جیسی بیماریوں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ اس حوالے سے عالمی اداروں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ لاہور میں 2023 میں دل کے امراض سے ہونے والی اموات میں 15 سے 20 فیصد اضافہ آلودگی سے منسلک تھا۔ سموگ کے نقصانات صرف یہی نہیں ہیں، بلکہ اسموگ کے دوران لوگوں کو آنکھوں میں جلن، پانی آنا، اور بینائی دھندلا ہونے کی شکایت عام ہے۔ آنکھوں کی سوزش اسموگ کے موسم میں سب سے عام بیماری ہے۔

فضا میں زہریلی گیسیں دماغ میں آکسیجن کی فراہمی کو متاثر کرتی ہیں جس سے یادداشت کمزور ہونا، ذہنی تھکن، چڑچڑاپن اور نیند کی کمی، بچوں میں توجہ کی کمی جیسے اثرات عام ہیں۔ آلودگی سے متاثرہ علاقوں میں پیدا ہونے والے بچوں میں وزن کم ہوتا ہے، سانس کی نالیاں کمزور ہوتی ہیں، دماغی نشو ونما متاثر ہو سکتی ہے، حاملہ خواتین میں قبل از وقت پیدائش کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جلد کی الرجی، خارش، اور گلے کی سوزش عام ہے۔ فضا میں موجود سلفر اور نائٹروجن کمپاؤنڈز جلد کو خشک اور حساس بنا دیتے ہیں۔

آج 27 اکتوبر 2025 ہے اور لاہور شہر دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار پایا ہے۔ مگر آج بھی کوئی وژن نظر نہیں آتا۔ کبھی انڈیا کی فضا کو قصور وار قرار دیا جاتا ہے تو کبھی غیر سنجدہ بیانات کے ذریعے توجہ ہٹانے کی کوشش۔ اصل ایشو اہلیت کا اور صلاحیت کا ہے۔
حکومت کا کام صرف بیانات ، دعوے اور اعلانات نہیں ہوتا۔ پاکستان کے آئین کے مطابق عوام کی جانوں کی حفاظت حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔ اس وقت لاہور ہی نہیں پورا پنجاب فضائی آلودگی کی سخت آزمائش میں ہے۔ بیماریوں کا گراف بہت اوپر چلا گیا ہے۔ کون ذمہ دار ہے ؟ عوام مجوری میں ماسک بھی لگا لیں گے ، اللہ تعالیٰ سے دن رات بارش کی دعائیں بھی کر لیں گے۔ سوال یہ ہے کہ پنجاب حکومت کیا کر رہی ہے۔ پانچ ہزار ارب سے زائد بجٹ کے صوبے کی حکومت کو اتنا بے بس تو نہیں ہونا چاہیے۔

چلیے اب آ جائیں اس کے اہم اور آخری حصے کی طرف۔ اس مسئلے کے حل کے لیے کیا ہونا چاہیے ؟ کیا کرنا چاہیے ؟ میرے اور آپ کی انفرادی حیثیت میں کرنے کے کیا کام ہیں اور پنجاب حکومت کو کیا کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے بہترین مثال اور رول ماڈل چین کا بہترین شہر بیجنگ ہے جس کا فضائی آلودگی کا انڈکس 900 کے تاریخی ریکارڈ پر چلا گیا تھا لیکن آج وہ ایک بہترین صاف فضا کا شہر ہے۔ لاہور شہر رقبے اور آبادی میں بیجنگ سے کچھ کم ہی ہے پھر وہ کون سے اقدامات تھے جس کی روشنی میں بیجنگ نے اتنے بڑے چیلنج کا مقابلہ کیا اور کامیابی حاصل کی۔

چین نے 40 سالہ گرین بیلٹ منصوبہ شروع کیا، جس کے تحت 350 کروڑ سے زیادہ درخت لگائے گئے۔ بیجنگ اور دیگر شہروں کے گرد جنگل اگائے گئے تاکہ ہوا کو صاف کیا جا سکے۔ لیکن یہاں لاہور شہر اور اس کے قریبی اضلاع میں درخت مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ پرائیویٹ ہائوسنگ سوسائٹیز ہوں یا دیگر منصوبے، یہ سب درختوں میں کمی کا باعث ہیں۔ کچھ دن پہلے پنجاب حکومت کی طرف سے ایک رپورٹ جاری ہوئی جس میں اس سال پنجاب پانچ لاکھ پودے لگانے کا ہدف تھا وہ بھی حاصل نہیں کیا جا سکا۔ اگر کسی کام کو کرنا ہو تو بہت آسانی سے رزلٹ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اس حوالے سے کچھ اقدامات یہ ہو سکتے ہیں:
آگاہی مہم، میڈیا پر 360 ڈگری مسلسل کمپین ہو۔ سال 2024 میں پنجاب میں تقریباً 2,694,281 طلبہ و طالبات نے میٹرک (دسویں جماعت) کا امتحان دیا۔ امتحان کے آغاز یا اختتام پر کسی ایک دن پودے لگانا ڈیٹ شیٹ کا حصہ ہو۔ اسی طرح سرکاری اور غیر سرکاری تمام سکولز، کالجز اور یونیورسٹیز میں فائنل رزلٹ ایک پودہ لگانے سے مشروط کیا جا سکتا ہے۔اضافی مارکس یا سرٹیفیکیٹ دیے جائیں، اس طرح لاکھوں پودے ایک سال میں لگ سکیں گے۔

سرکاری، بنجر زمینوں پر بڑے پیمانے پر پھل دار اور کار آمد لکڑی والے درختوں کی شجر کاری کی جائے جو بہترین آمدن کا بھی ذریعہ ہوں۔ حکومتی سطح پر سڑکوں کے کنارے، ریلوے لائنوں، پارکوں، ہسپتالوں میں ایک سال میں لاکھوں پودے لگائے جا سکتے ہیں۔ مقامی درختوں جیسے نیم، شہتوت، املتاس، کچنار، پیپل، املتھ وغیرہ کو ترجیح دی جائے۔ یہ فضا کے لیے بہتر ہیں۔ آج سے دو عشرے پہلے ہر سڑک کے دونوں طرف درختوں کا بہت خوب صورت انتظام موجود رہ بھی چکا ہے۔

نئی ہاؤسنگ اسکیموں کو این او سی دینے سے پہلے شجر کاری پلان مانگا جائے۔ ہر تین سے پانچ مرلے پر دو پودے (گملے یا زمین میں) اور 10 مرلے کے پلاٹ پر کم از کم 4 درخت لازمی ہوں۔ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو Green Roof یا Vertical Garden پالیسی دینا
محکمہ جنگلات Miyawaki Forests (جاپانی تیز رفتار جنگلات) طرز پر منصوبے شروع کرے۔ فصلوں کے درمیان درختوں کی قطاریں لگانے کی ترغیب دی جائے۔ حکومت درخت لگانے والے کسانوں کو کاربن کریڈٹ یا ٹیکس ریلیف دے سکتی ہے۔ دیہی علاقوں میں مفت پودوں کی تقسیم کے مراکز قائم کیے جائیں۔

مساجد کے ذریعے شجر کاری کی اخلاقی و مذہبی اہمیت اجاگر کی جائے۔ گھر کے جتنے افراد ہیں کم ازکم اتنے پودے اور درخت لگانا ضروری قرار دیا جائے۔ ایپ کے ذریعے اس کی مانیٹرنگ کی جا سکتی ہے۔ فیکٹریاں کوئلے کی بجائے قدرتی گیس یا صاف ایندھن پر منتقل کی جائیں۔ پرانی گاڑیاں جب تک معیار پر پوری نہیں اترتیں ان کو روڈ سے ہٹایا جائے۔ الیکڑک کار ، بائیک کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ہر فیکٹری کے لیے ریئل ٹائم ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سسٹم لازمی کیا جائے۔ جو فیکٹری ماحولیاتی معیار پر پوری نہ اترے، اس پر بھاری جرمانے یا بندش لاگو کی جائے۔ پبلک انسپیکشن ٹیمیں بنائی جائیں جو عوامی شکایات پر کارروائی کریں۔
سستی، آرام دہ، تیز پبلک ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جائے تاکہ زیادہ لوگ اپنی گاڑی کی بجائے اس کو ترجیح دیں۔ سائیکلنگ کلچر کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش اور حوصلہ افزائی کی جائے۔ چین کی طرز پر اقدامات کے تحت ہر سال کے لیے آلودگی کم کرنے کا ہدف مقرر کیا جائے۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین