31.7 C
Islamabad

ایف بی آر نے جائیدادوں کی قیمتوں کے تعین میں ٹیکس محتسب کے ازخود نوٹس اختیار کو عدالت میں چیلنج کردیا

ایف بی آر نے جائیدادوں کی ویلیویشن کے معاملات میں ٹیکس محتسب کے ازخود نوٹس اور صدرِ پاکستان کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے 43 ازخود نوٹس کیسز میں صدرِ پاکستان کے پرنسپل سیکریٹری اور وفاقی ٹیکس محتسب کو نوٹس جاری کردیا۔جسٹس خادم حسین سومرو نے ایف بی آر کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا، ایف بی آر نے وکیل حافظ احسان کھوکھر کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت رٹ پٹیشن دائر کی۔ایف بی آر نے صدارتی حکم نامے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے، درخواست میں صدرِ پاکستان، وفاقی ٹیکس محتسب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

وکیل درخواست گزار کے مطابق وفاقی ٹیکس محتسب نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے 23 مختلف کیسز میں اپنی سفارشات جاری کیں، وکیل ایف بی آر کے مطابق ایف ٹی او نے غیر قانونی طور پر رئیل اسٹیٹ کی ویلیویشن اور پالیسی سازی کے معاملات میں مداخلت کی۔وکیل ایف بی آر کے مطابق ایف ٹی او آرڈیننس 2000 کی دفعہ 9(2) کے تحت ٹیکس اسسمنٹ اور پالیسی امور محتسب کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں، وکیل ایف بی آر کے مطابق صدرِ پاکستان نے اپنے حکم میں تسلیم کیا کہ ایف ٹی او کا دائرہ اختیار نہیں تھا۔

وکیل ایف بی آر کے مطابق دوسری طرف صدر نے قرار دیا کہ ایف ٹی او کے دائرہ اختیار پر عائد قانونی پابندی حتمی نہیں ہے، وکیل درخواست گزار کے مطابق ایف ٹی او کی سفارشات اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں نہیں آتیں۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت ایف ٹی او کی سفارشات اور ان پر عملدرآمد کے لیے جاری کردہ تمام نوٹسز کو غیر قانونی قرار دے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت صدارتی حکم نامے اور ایف ٹی او کی سفارشات پر عملدرآمد کو حتمی فیصلے تک معطل کرے۔درخواست گزار کے مطابق ایف ٹی او کے پاس براہِ راست پالیسی سازی کی ہدایات دینے کا کوئی قانونی جواز نہیں، درخواست گزار کے مطابق ریونیو ڈویژن اور ایف بی آر کو کسی انتظامی حکم کے ذریعے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

عدالت نے 43 ازخود نوٹس کیسز میں پرنسپل سیکریٹری برائے صدرِ پاکستان اور وفاقی ٹیکس محتسب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین