اسلام آباد
کانسٹیٹیوشن ون ایونیو کی عمارت کو خالی کروانے کا معاملہ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان ٹھن گئی کثیر منزلہ عمارت کے خلاف آپریشن رکوانے پر وزیر داخلہ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سی ڈی اے کے تمام آپریشن رکوادئیے ذرائع کےمطابق کانسٹیٹیوشن ایونیو پر واقع کثیر منزلہ عمارت کی لیز منسوخ ہونے کے بعد اسے خالی کروانے کا تنازعہ شدت اختیار کرگیا ہے وزیر اعظم آفس نے مذکورہ عمارت کے الاٹیز کی درخواست پر معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تین رکنی کمیٹی قائم کی تھی اور رپورٹ آنے تک سی ڈی اے کو کسی بھی قسم کی کاروائی کرنے سے روک دیا تھا جس کے بعد وزیر داخلہ نے معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے وفاقی ترقیاتی ادارے(سی ڈی اے) کو اسلام آباد میں تجاوزات اور سرکاری املاک قابضین سے چھڑانے کے حوالے سے جاری تمام آپریشن بند کرنے کا حکم دے دیا ہے ادھر سوشل میڈیا پر وزارت داخلہ اور پی ایم آفس کے بیانیہ پر مبنی مہم باقاعدہ طور پر شروع کردی گئی وزیراعظم آفس کے خلاف اشرافیہ کو فیور کرنے اور غریبوں کی بستیاں اجاڑنے کا غوغہ کیا جارہا ہے جبکہ وزیر داخلہ کے منہ زور ہونے وزیراعظم کو خاطر میں نہ لانے اور لوگوں کو جوتوں تلے روندنے کا بیانیہ بناہوا ہے اور بڑے بڑے جرنلسٹ اس مہم میں کودے ہوئے ہیں دونوں اطراف میں اپنے اپنے موقف کو صیح ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی واضح رہے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان یہ دوسری بار اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں جو سی ڈی اے کے معاملات کی وجہ بنے ہیں وزیراعظم نے محمد علی رندھاوا سابق چیئرمین سی ڈی اے کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ٹرانسفر کرنے کی ہدایت کی گئی تھی جس کے سامنے وزیر داخلہ آگئے تھے اور انہوں نے یہ تبادلہ رکوا لیا تھا اب محسن نقوی کانسٹیٹیوشن ایونیو ون کی عمارت کو ہر قیمت پر خالی کروانے پر بضد ہیں جس میں سینکڑوں بااثر شخصیات کے اپارٹمنٹس ہیں تاہم بلڈر کی وائلیشن پر پراپرٹی لیز منسوخ ہوچکی ہے جسے سی ڈی اے خالی کروا کر قبضہ لینے کی کوشش کررہا ہے عمارت کو انتہائی اہم لوکیشن پر واقع ہونے کی وجہ سے سکیورٹی رسک کے طور پر دیکھا جارہا طاقت کے ان دو ایونوں میں اختیارات کی رسہ کشی کا کیا نتیجہ نکلتا ہے یہ آنے والے دنوں میں پتہ چلے گا
