محکمہ موسمیات کے مطابق درجہ حرارت میں اچانک اضافے کے بعد اس نوعیت کی بارشیں معمول کا حصہ ہوتی ہیں، تاہم یہ صورتحال گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ، ملبے کے بہاؤ اور سیلاب کے خطرات کو بڑھا دیتی ہے۔ خاص طور پر ہوپر، غلکین، ششپر، یاسین، پھنڈر، بڈسوات، لوئر ہنزہ، نگر، گھانچے، دیر اور دیر بالا جیسے علاقے زیادہ خطرے کی زد میں ہیں۔حکام نے برفانی وادیوں میں رہنے والے افراد کو ہدایت کی ہے کہ بارش کے دوران ندی نالوں اور دریا کے کناروں کے قریب جانے سے گریز کریں۔ مقامی ندیوں میں پانی کے رنگ میں اچانک تبدیلی یا غیر معمولی آوازوں جیسےپتھروں کے ٹکرانے کی صورت میں فوری احتیاط برتی جائے اور محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں۔مزید ہدایت کی گئی ہے کہ مویشیوں اور ضروری اشیا کو بلند اور محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے اور کمیونٹی بیسڈ ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کمیٹیوں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جائے۔محکمہ موسمیات کے مطابق ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام 24 گھنٹے چوکس ہیں اور دور دراز علاقوں میں تکنیکی فوکل پرسنز کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا جا رہا ہے۔محکمہ موسمیات نے تمام متعلقہ افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھیں، احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پیشگی اقدامات یقینی بنائیں تاکہ جانی و مالی نقصان سے محفوظ رہا جا سکے
