کشمیر کا دردمند سیاستدان ، ڈاکٹر سردار محمد حلیم خان
ان کی پانچویں برسی یکم نومبر کو دریک راولاکوٹ میں عقیدت واہتمام سے منائی جا ئے گی
ڈائیلاگ / سردار محمد طاہر تبسم
جموں و کشمیر کی سیاست میں خدمت انسانیت کا جذبہ صادق اور عوامی رشتہ و تعلق اب معدوم ہی ہو رہا ہے مال و دولت کی چمک اور حرص و لالچ نے ایسے وصف ناپید کر دہئے ہیں جس شخص میں یہ اوصاف موجود ہیں وہ اس کو اوج ثریا پر پہنچا دیتا ہے اور وہ شخصیت عوام کے دلوں میں ہمیشہ راج کرتی ہے۔ لوگ اس سے بے پناہ محبت اور اندھا اعتماد کرتے ہیں۔ پونچھ میں میرے ایسے دوست گوہر نایاب اگلے جہاں چل بسے ہیں جن کو ہم شدت سے یاد کرتے ہیں جن کا وجود حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کی معراج رہا ہے اور جو لالچ و طمع کے بغیر سیاسی و سماجی خدمت کو عبادت کی نیت سے سرانجام دیتے رہے ہیں اور ان میں میرے محسن دوست سردار مختار خان ایڈووکیٹ، سردار یوسف شمیم، سردار سیاب خالد، سردار عظیم ضیاْ ایڈووکیٹ، سردار صابر حسین صابر اور ڈاکٹر سردار حلیم خان ایسے باوصف، وفاشعار دلیر اصول پسند اور درد دل رکھنے والے عوامی، علمی سماجی اور سیاسی رہنما تھے کہ ہر اپنا بیگانہ ان پر جان دینے کو تیار رہا ہے۔ اللہ کریم نے انہیں اتنا بڑا ظرف و دل اور مضبوط ارادے دے رکھے تھے کہ وہ ہر ملنے والے کے دل میں رہتے تھے لیکن اللہ کریم کو ایسے لوگ بہت پیارے ہوتے ہیں اور انہیں جلد اپنے پاس ہلا لیتے ہیں۔
ڈاکٹر سردار حلیم خان کی یکم نومبر کو پانچویں برسی منائی جا رہی ہے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ لوگوں کے دلوں پر ہمیشہ راج کرتے رہیں گے کیونکہ انہوں نے اپنی عادات، مزاج، خدمات اور اوصاف میں ایسے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں کہ کوئی چاہے بھی تو ان کی بے لوث، پرخلوص اور مشفقانہ عظمت و سطوت کو کبھی فراموش اور نظر انداز نہیں کر سکتا۔ پیشے کے اعتبار سے وہ ممتاز و معروف اور کہنہ مشق معالج تھے لیکن عوامی خدمت، خلوص و محبت اور حکیمانہ بصیرت میں وہ اپنی مثال آپ تھے ایسا انمول ہیرا کوئی بخیل ہی بھول سکتا ہے۔
میرا ڈاکٹر سردار حلیم سے ایک دہائی تک تعلق رہا اللہ کریم نے انہیں مہلت ہی زیادہ نہیں دی لیکن راولاکوٹ کے اصحاب علم بخوبی جانتے ہیں کہ میرا ان سے کیسا تعلق، رشتہ اور بے تقلفی تھی ہم جب تک روزانہ بات نہ کرتے تو ایک تشنگی سی رہتی تھی۔ ان کی خواہش اور دعوت پر درجنوں مرتبہ راولا کوٹ گیا کیونکہ مجھے ان جسے صاحب علم و فکر سے ملنے کی ہمیشہ خواہش رہتی تھی۔ وہ نہ صرف عوامی رہنما بلکہ دین و دنیا کے اسلوب و علوم کے بحر ذخار بھی تھے وہ سچے عاشق رسول اور دینی علوم پر دسترس رکھے والے عالم دین تھے۔ شعلہ بیان مقرر اور وسیع المطالعہ مفکر و فلاسفر تھے۔ اپنی تقاریر میں وہ قرآن و حدیث کے حوالے یوں دیتے جیسے انہیں قرآن و حدیث کے علوم ازبر ہیں۔ دیکھا جاہے تو وہ اپنے پیشہ سے بے حد محبت رکھنے والے معالج تھے لوگ ان پر بے پناہ اعتماد اور پیار کرتے تھے اگر انہیں دولت کمانے کا لالچ ہوتا تو وہ امیر ترین لوگوں میں شمار ہو سکتے تھے لیکن پیسوں سے زیادہ ان میں خدمت خلق کا جذبہ صادق کار فرما رہا اور غریبوں کا مفت علاج کر کے انہیں بے پناہ تشفی ہوتی تھی۔
ڈاکٹر حلیم خان کئی اہم سیاسی عہدوں پر رہے بلکہ وزیراعظم کے مشیر بھی رہے لیکن کبھی تصنوع، بناوٹ اور بڑائی سے کام نہیں لیا وہی درویشانہ اور سادہ زندگی اور ہر ایک کے کام آنے کا جذبہ ہر دم ساتھ ساتھ رہتا تھا۔ ڈاکٹر حلیم خان کی وجہ شہرت پرل ویلفیر ایسوسی ایشن دریک ہے جس کے پلیٹ فارم سے انہوں نے دْکھی انسانیت کی بے بہا اور بے لوث خدمت کی، لوگوں کے مسائل جانے اور ان کو حل بھی کرایا۔ یہ سماجی تنظیم اب بھی فعال کردار ادا کر رہی ہے اور ان کے بھائی ریٹاہرڈ معلم سردار نعیم خان اس کے صدر ہیں۔ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج دریک راولاکوٹ انہی کی کوششوں سے منظور ہوا اور علاقے کی بچیوں کو تعلیم کی سہولت میسر ہوئی اس کالج کو ڈاکٹر حلیم خان کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر حلیم میری این جی او انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ انسپاڈ کے بورڈ آف گورنرز کے رکن تھے ان کی جگہ کچھ عرصہ قبل انکے بھائی سردار خالد محمود خان ریٹاہرڈ ڈی ای او کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے۔ ان کی سرپرستی و معاونت سے ہم نے تین بڑی کانفرنسز کا راولاکوٹ میں انعقاد کیا۔ کشمیر کی آزادی اور تکمیل پاکستان ان کے ایمان کا حصہ رہا بلاشبہ ڈاکٹر حلیم خان ریاست جموں و کشمیر کا دیدہ ور، خوددار سیاستدان، عوام کا حقیقی ترجمان اور علامہ اقبال کا شاہین تھا۔ ڈاکٹر سردار محمد حلیم خان جیسے درخشاں ستارے اور درد مند سیاستدان کی جدوجہد، خدمات اور کردار و عمل کو صدیوں یاد رکھا جاہے گا۔ ان کے ایک بھائی سردار خلیل خان ریٹاہرڈ گورنمنٹ آفیسر اور دوسرے سردار اصغر محمود خان سپین میں مقیم ہیںـ دو بھاہیوں سردار خالد محمود خان اور سردار نعیم خان کا ذکر بھی ہو چکا ہے۔
