اسلام آباد میں پولیس نے پراپرٹی ڈیلر فرخ افضل کے جبری اغوا اور قتل کے مقدمے کو حل کرنے اور واقعے میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔گرفتار ہونے والوں میں خیبر پختونخوا پولیس میں تعینات ایک کانسٹیبل اور 19 سالہ لڑکی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمہ کی گرفتاری ڈال کر اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے جبکہ دوسرے ملزم کو سوات سے گرفتار کر کے متعلقہ عدالت سے اس کا راہداری ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔اسلام آباد پولیس کے ایس پی سٹی ایاز حسین کے مطابق ابتدائی طور پر یہ مقدمہ اغوا برائے تاوان کی دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی نشاندہی پر مغوی کی لاش خیبر پختوانخوا کے ضلع مردان سے برآمد کرلی گئی ہے۔تیس سالہ پراپرٹی ڈیلر فرخ افضل کے اغوا کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج ہوا تھا۔ اسلام آباد کے سیکٹر ایف سکس ون کے رہائشی فرخ افضل کے والد نے پولیس کو بتایا کہ وہ چار مئی کی شب اپنے گھر پر سو رہے تھے کہ اچانک باہر سے شور کی آواز سنائی دی۔انھوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ جب انھوں نے باہر نکل کر دیکھا تو چند نامعلوم افراد کالے رنگ کی ایک گاڑی میں ان کے بیٹے کو زبردستی بٹھا کر لے جا رہے تھے۔
پولیس کے مطابق اس واقعے کی تفتیش کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جنھوں نے اس گاڑی کی لوکیشن معلوم کرنا شروع کی جس میں ملزمان مبینہ طور پر فرخ افضل کو اسلحہ کے زوخر پر اغوا کر کے لے گئے تھے۔
اس مقدمے کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایس پی ایاز حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ کلوز سرکٹ کیمروں کی مدد سے معلوم ہوا کہ جس گاڑی میں مغوی کو بٹھا کر لے جایا گیا تھا وہ موٹر وے پر صوابی انٹرچینج سے نیچے اتری
