وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس قانون کے سیکشن سیون ای کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر کالعدم کر دیا ہے۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں عدالت نے اس حوالے سے دائر کردہ اپیلوں پر سماعت کی اور مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا جس کے تحت وفاقی حکومت کی جانب سے اس سیکشن کی بحالی کے لیے دائر تمام درخواستیں خارج کر دی گئی ہیں۔عدالت کے اس فیصلے کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے سیکشن سیون ای کے تحت اب تک کیے گئے تمام اقدامات اور وصولیاں بھی قانونی طور پر ختم ہو گئی ہیں۔واضح رہے کہ انکم ٹیکس قانون کے اس سیکشن کے تحت زیر تعمیر عمارتوں اور جائیدادوں پر مخصوص ٹیکس عائد کیا گیا تھا جس پر رئیل اسٹیٹ سے وابستہ افراد کو شدید تحفظات تھے۔اس سے قبل پشاور، بلوچستان اور اسلام آباد کی ہائی کورٹس نے بھی اس قانون کو غیر قانونی قرار دیا تھا، جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے اسے آئین کے مطابق قرار دیا تھا۔مختلف عدالتوں کے متضاد فیصلوں کے بعد معاملہ وفاقی آئینی عدالت پہنچا جہاں عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد 30 اپریل کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کے اس فیصلے سے ملک کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو براہ راست بڑا فائدہ پہنچے گا اور تعمیراتی صنعت میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی
