اسلام آباد: کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں کشمیری 27 اکتوبر کو یومِ سیاہ کے طور پر منائیں گے تاکہ بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر پر جاری تسلط کی مذمت کی جا سکے اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی جانب عالمی توجہ مبذول کرائی جا سکے۔یہ دن اس واقعہ کی یاد دلاتا ہے جب 1947 میں بھارتی افواج جموں و کشمیر میں داخل ہوئیں جسے کشمیری عوام برصغیر کی تقسیم کے منصوبے اور اپنی قومی خواہشات کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔ہر سال یہ دن ایک غم انگیز یاد کے طور پر منایا جاتا ہے جو دہائیوں پر محیط جبر و ستم اور حقِ خودارادیت کے ادھورے وعدوں کی عکاسی کرتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی ذرائع کے مطابق 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی سیمی خودمختار حیثیت ختم کیے جانے کے بعد انسانی جانوں کا نقصان مسلسل بڑھ رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق اب تک 1,041 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 280 افراد مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں مارے گئے۔مزید 2,652 افراد کو تشدد یا گولیوں سے زخمی کیا گیا جبکہ 29,945 کو مختلف آپریشنز یا احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار کیا گیا۔آتشزدگی کے 1,100 سے زائد واقعات میں گھروں، دکانوں اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔اعدادوشمار کے مطابق 82 خواتین بیوہ، 230 بچے یتیم ہوئے اور 137 خواتین کو اجتماعی زیادتی یا ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا۔2019 سے اب تک 22,707 سرچ آپریشنز کیے جا چکے ہیں جن سے عوام میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔
