اسلام آباد: نائب وزیراعظم /وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر پولینڈ کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ رادوساؤ سیکورسکی نے 23-24 اکتوبر 2025 کو پاکستان کا سرکاری دورہ کیا، یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم کی علامت ہے جس میں دونوں ممالک اور ان کے متعلقہ خطوں میں زیادہ پرامن، استحکام اور معاشی خوشحالی لانے کے لئے دوطرفہ تعلقات کو گہرا کرنے کے مشترکہ عزم کو اجاگر کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان اور پولینڈ کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اعلامیہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے مشترکہ تاریخی ورثے کی پائیدار تعلق کو اجاگر کیا جو پولینڈ جنگ کے پناہ گزینوں کے تجربات کے وقت سے تشکیل پایا ہے جنہیں آج کے پاکستان کے میں پناہ ملی اور پولش مسلح افواج کے افسران کی خدمات جنہوں نے دوسری جنگ عظیم کے فوری بعد پاکستان فضائیہ کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ دونوں ممالک نے اپنی قوموں میں بہتر مفاہمت کے لئے اس ورثے کو محفوظ رکھنے اور فروغ دینے کے اپنے عزم کی تجدید کی۔
وزراء نے کثیرالجہتی کو مضبوط بنانے میں پولینڈ-پاکستان تعاون بشمول اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کی عالمگیر اور مستقل پابندی کے ذریعے اس تناظر میں تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا، انہوں نے خاص طور پر ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے مکمل احترام کی اہمیت پر زور دیا۔ وزراء اس بات پر متفق ہوئے کہ کثیرالجہتی فورمز خاص طور پر اقوام متحدہ کی صلاحیت سے مکمل فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ موجودہ اور نئے تنازعات کے پرامن حل، تنازعات کی روک تھام کے ساتھ ساتھ محتاط سفارتکاری اور ثالثی کے لئے اجتماعی کوششوں کی قیادت کی جائے۔ انہوں نے اس سلسلے میں جولائی 2025 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاکستان کی صدارت کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 (2025) کے اختیار کی توثیق کی۔
وزراء نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری دونوں ممالک کے درمیان باہمی فائدے والی سرمایہ کاری کے تعاون کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ وزراء نے دوطرفہ تجارت کو بڑھانے اور متوازن کرنے اور تجارتی تعاون میں تنوع لانے بشمول ایک دوسرے کی منڈیوں میں وسیع تر رسائی کے ذریعے اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے بی ٹو بی تعاون کو مضبوط بنانے کے اقدامات، بشمول تجارتی مشن اور نمائشوں اور کانفرنسوں میں شرکت، کی حمایت کا اظہار کیا۔
وزراء نے قدرتی وسائل کی تلاش، نکالنے اور پروسیسنگ، گرین ٹیکنالوجیز بشمول پانی اور گندے پانی کے انتظام ، زراعت، خوراک کی پروسیسنگ، اور آئی ٹی، بشمول شہریوں اور سرکاری شعبے کے لئے ڈیجیٹل خدمات کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کی جیولوجیکل سروسز کے درمیان تعاون جیسے شعبوں میں معاشی تعاون کو وسعت دینے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم کیا۔ انہوں نے دوطرفہ تعاون کے منصوبوں کی نشاندہی کرنے اور ان پر عملدرآمد کرانے کے لئے اپنے اپنے ممالک کی سرکاری اور نجی اداروں کے درمیان رابطوں کی حمایت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
دفاعی اور سلامتی تعاون کے حوالے سے اپنی مسلح افواج اور دفاعی صنعتوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کے ارادے پر زور دیتے ہوئے، دونوں فریقوں نے تجربات اور بہترین طریقوں کے اشتراک بشمول دوروں، کورسز اور تربیتی پروگراموں میں شرکت کے ذریعے اقدامات کی حمایت کا اظہار کیا ۔دونوں وزراء نے دہشت گردی کی تمام اشکال اور اقسام کی واضح مذمت کی اور زور دیا کہ کسی بھی ریاست کو ان لوگوں کو پناہ نہیں دینی چاہئے جو دہشت گردی کی کارروائیوں کی مالی معاونت، منصوبہ بندی، حمایت یا ارتکاب کرتے ہیں۔ دونوں فریقوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور اقوام متحدہ کی عالمی دہشت گردی مخالف حکمت عملی کے مضبوط نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے بین الاقوامی وعدوں کے مطابق بارڈر کنٹرولز کو مضبوط بنانے، دی ایڈمیشن ، تعاون کو بڑھانے، اور محفوظ، منظم اور باقاعدہ تارکین وطن کو فروغ دینے کے شعبے میں مسلسل تعاون کی ضرورت کی تصدیق کی۔ EURA کے تحت پولینڈ کے ساتھ پاکستان کے تعاون تعلیم، سائنس، ثقافت، عوام سے عوام کے تعلقات کو سراہا گیا ۔ وزرائے خارجہ نے اپنے معاشروں کے درمیان دیرینہ خصوصی عوام سے عوام کے تعلقات کو ذکر کیا اور انہیں مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے ثقافت، تعلیم، سائنس، تحقیق اور صحت کے شعبوں میں تعاون بشمول تعلیمی تبادلوں اور اعلیٰ اور مستند تعلیمی معیار والے جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون کے ذریعے وسعت دینے کے لئے اپنی آمادگی کا اظہار بھی کیا۔
انہوں نے پالیسی مکالمہ کو آگے بڑھانے اور باہمی تفہیم کو بڑھانے کے لئے تھنک ٹینکس کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس تناظر میں وزراء نے پولش انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز (PISM) اور اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز (آئی ایس ایس آئی ) کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو ) پر دستخط کی توثیق کی۔ پولینڈ کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ رادوساؤ سیکورسکی نے نائب وزیر اعظم وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور پاکستان کے عوام کا اپنی اور اپنے وفد کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا اور انہوں نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو پولینڈ کے سرکاری دورہ کی دعوت دی، اور امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ اور ثمر آور مکالمہ جاری رہے گا۔
