اسلام آباد:چین میں مختلف شعبوں سے وابستہ 600 سے زائد پاکستانی کمپنیوں نے چینی حکام کے ساتھ رجسٹریشن مکمل کر لی ہے جو چین میں پاکستان کی تجارتی موجودگی اور منڈی تک رسائی میں نمایاں توسیع کی علامت ہے۔ ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (جی اے سی سی) کے ساتھ 25 آموں کے ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، 21 کینو کولڈ ٹریٹمنٹ پلانٹس اور 103 چاول کمپنیوں کی باضابطہ رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے۔
اس کے علاوہ 15 ریپ سیڈ میل کمپنیوں، 106 چیری ایکسپورٹرز، 175 سی فوڈ کمپنیوں، 185 تل پراسیسنگ یونٹس، 10 فش میل تیار کنندگان اور 7 ڈی فیٹڈ بون کمپنیوں کی رجسٹریشن بھی ہو چکی ہے جبکہ کئی دیگر کیٹیگریز پر کام جاری ہے۔پاکستان کی زرعی اور صنعتی برآمدات کے نئے شعبے جیسے پیاز، گدھے کی کھالیں اور ڈیری مصنوعات بھی منظوری کے لیے زیر جائزہ ہیں جو چین کے لیے برآمدات کی بنیاد میں مزید وسعت کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ مشن اس وقت ماہانہ اوسطاً پانچ تجارتی و سرمایہ کاری سے متعلقہ سوالات نمٹاتا ہے جن میں درآمدی ضوابط، بندرگاہوں سے کلیئرنس کے طریقہ کار اور چینی منڈی کی پالیسیوں سے متعلق معلومات شامل ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ مشن ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی)، بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) اور چین کے سفارتخانے کے ساتھ تعاون میں کاروباری وفود اور برآمدکنندگان کے ویزوں کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔
