لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے نمایاں بیٹے سیف الاسلام قذافی کو قتل کردیا گیا ہے۔ سیف الاسلام قذافی کے وکیل خالد الزیدی اور ان کے سیاسی مشیر عبداللہ عثمان نے منگل کے روز فیس بک پر الگ الگ پیغامات میں ان کی موت کا اعلان کیا، تاہم ابتدائی طور پر واقعے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔لیبیائی خبر رساں ادارے ’فواصل میڈیا‘ کے مطابق عبداللہ عثمان نے بتایا کہ مسلح افراد نے سیف الاسلام قذافی کو ان کے گھر میں قتل کیا۔انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ طرابلس سے تقریباً 136 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع قصبے زنتان میں پیش آیا، جہاں وہ گزشتہ کئی برسوں سے مقیم تھے۔
بعد ازاں قذافی کی سیاسی ٹیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ”چار نقاب پوش افراد نے ان کے گھر پر دھاوا بولا اور انہیں ایک بزدلانہ اور غداری پر مبنی حملے میں قتل کر دیا۔“بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ سیف الاسلام قذافی نے حملہ آوروں کے ساتھ مزاحمت کی اور اس دوران حملہ آوروں نے گھر میں نصب سیکیورٹی کیمرے بند کر دیے تاکہ اپنے جرائم کے شواہد مٹائے جا سکیں۔واقعے کے بعد طرابلس میں قائم بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ادارے ہائی اسٹیٹ کونسل کے سابق سربراہ خالد المشری نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں قتل کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔سیف الاسلام قذافی نے کبھی لیبیا میں کوئی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا، لیکن سن 2000 سے 2011 تک انہیں اپنے والد کا قریبی ترین ساتھی اور ممکنہ جانشین سمجھا جاتا تھا۔
