بھارت آندھرا پردیش کے ضلع کرنول میں ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک خاتون پر الزام ہے کہ اس نے اپنے سابق عاشق کی بیوی کو ایچ آئی وی سے متاثرہ انجکشن لگا دیا۔ پولیس نے اس معاملے میں چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں مرکزی ملزمہ، ایک نرس اور اس کے دو بالغ بچے شامل ہیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق پولیس نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ گرفتار ملزمان میں بی بویا واسندھرا عمر 34 سال، 40 سالہ کونگے جیوتھی، جو آدونی کے ایک نجی اسپتال میں نرس ہے، اور اس کے دو بچے شامل ہیں، جن کی عمریں بیس سال کے قریب بتائی جا رہی ہیں۔ تمام ملزمان کو 24 جنوری کو حراست میں لیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ واسندھرا اپنے سابق عاشق کی شادی کسی اور خاتون سے ہونے کو قبول نہیں کر پا رہی تھی۔ اسی جزبہ رقابت کے تحت رنجش کے تحت خاتون نے دیگر افراد کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر ایک سازش تیار کی تاکہ اس جوڑے کو الگ کیا جا سکے۔متاثرہ خاتون ایک ڈاکٹر ہیں اور کرنول کے ایک نجی میڈیکل کا میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔پولیس کے مطابق 9 جنوری کو دوپہر تقریباً ڈھائی بجے متاثرہ ڈاکٹر ڈیوٹی کے بعد لنچ کے لیے اسکوٹر پر گھر واپس جا رہی تھیں۔ اسی دوران ونايک گھاٹ کے قریب کے سی کینال کے پاس ایک موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے جان بوجھ کر ان کے اسکوٹر کو ٹکر مار دی، جس سے وہ گر گئیں اور زخمی ہو گئیں
