سونے کی عالمی قیمت پیر کے روز تاریخ کی بلند ترین سطح 5,000 ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئی، جب سرمایہ کار بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی جانب تیزی سے متوجہ ہوئے۔ اس طرح سونے کی قیمتوں میں جاری تاریخی تیزی مزید مضبوط ہو گئی۔اسپاٹ گولڈ 1.79 فیصد اضافے کے بعد 5,071.96 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا، جبکہ سیشن کے دوران یہ 5,085.50 ڈالر کی سطح کو بھی چھو گیا۔ فروری ڈیلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز بھی 1.79 فیصد اضافے سے 5,068.70 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔سال 2025 کے دوران سونے کی قیمت میں مجموعی طور پر 64 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں محفوظ اثاثوں کی طلب، امریکی مانیٹری پالیسی میں نرمی، مرکزی بینکوں کی جانب سے بھرپور خریداری اور ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز میں ریکارڈ سرمایہ کاری شامل ہیں۔ چین نے دسمبر میں مسلسل چودھویں ماہ بھی سونے کی خریداری جاری رکھی۔ رواں سال اب تک قیمتوں میں 17 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ تجارتی بیانات نے بھی مارکیٹوں میں بے چینی بڑھائی ہے۔ انہوں نے یورپی اتحادیوں پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں سے وقتی طور پر پیچھے ہٹنے کے باوجود کینیڈا اور فرانس کے خلاف سخت تجارتی اقدامات کا عندیہ دیا، جس سے عالمی تجارتی کشیدگی کے خدشات میں اضافہ ہوا۔دوسری جانب جاپانی ین کی قدر میں اضافے سے ڈالر کمزور ہوا، جس کے باعث دیگر کرنسی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے سونا نسبتاً سستا ہو گیا۔ ماہرین کے مطابق قیمتوں میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے اور سال کے اختتام تک سونا 5,500 ڈالر فی اونس تک جا سکتا ہے، اگرچہ درمیان میں منافع خوری کے باعث عارضی کمی بھی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا، چاندی 107 ڈالر، پلاٹینم 2,857 ڈالر اور پیلیڈیم 2,074 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئے
