33.6 C
Islamabad

پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں استنبول میں مکمل ، طاہر حسین اندرابی

پاکستان کی توقع تھی کہ طالبان حکومت وقت کے ساتھ ان حملوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گی اور افغان سرزمین پر موجود ٹی ٹی پی عناصر کے خلاف کارروائی کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور برادر ممالک ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں استنبول میں مکمل ہوا ،پاکستان نے ان دونوں ممالک کی مخلصانہ کاوشوں کی بھرپور قدر و تحسین کی ہے جنہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی کے مسئلے پر اختلافات کے حل کے لیے کوششیں کی ہیں ،گزشتہ چار برسوں کے دوران جب سے طالبان حکومت افغانستان میں برسراقتدار آئی ہے، پاکستان پر افغان سرزمین سے دہشت گرد حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان نے ان حملوں کے باوجود انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور جوابی کارروائی سے گریز کیا۔ پاکستان کی توقع تھی کہ طالبان حکومت وقت کے ساتھ ان حملوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گی اور افغان سرزمین پر موجود ٹی ٹی پی عناصر کے خلاف کارروائی کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا ،پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ مثبت انداز میں روابط بڑھانے کی کوشش کی ،تجارتی مراعات، انسانی بنیادوں پر امداد، تعلیم و صحت کے ویزوں میں سہولت اور بین الاقوامی فورمز پر افغانستان کے لیے مثبت کردار ادا کیا تاہم ان تمام کوششوں کے جواب میں طالبان حکومت کی طرف سے صرف کھوکھلے وعدے اور عدمِ عمل دیکھنے میں آئے۔

اتوار کو ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی بنیادی توقع یہ تھی کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا لیکن طالبان حکومت اس پر عملدرآمد میں ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2025 میں پاکستان کا ردعمل اس عزم کا اظہار تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے ریاستِ پاکستان اور عوام کے دشمن ہیں اور جو کوئی بھی ان کی حمایت یا معاونت کرتا ہے، وہ پاکستان کا خیرخواہ نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان امن اور سفارتکاری کا حامی ہے اور ہمیشہ سمجھتا ہے کہ طاقت کا استعمال آخری راستہ ہے۔ اسی جذبے کے تحت پاکستان نے ترکیہ اور قطر کی مخلصانہ ثالثی میں ہونے والے پاک-افغان مذاکرات میں شرکت کی۔انہوں نے بتایا کہ دوحہ میں مذاکرات کے پہلے دور میں دونوں فریقوں کے درمیان باہمی تعاون کے اصولوں پر اتفاق ہوا اور پاکستان نے عارضی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی۔ تاہم استنبول میں ہونے والے دوسرے اور تیسرے دور میں طالبان نمائندوں نے عملی اقدامات سے گریز کیا اور الزام تراشی اور اشتعال انگیزی کے ذریعے ماحول خراب کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے اس بنیادی مؤقف پر قائم ہے کہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں، اور ایک مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے تاکہ ان کی سرگرمیوں پر قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت افغان سرزمین میں موجود دہشت گردوں کے مسئلے کو انسانی مسئلہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ دہشت گرد 2015 کے آپریشن ضربِ عضب کے بعد افغانستان فرار ہوئے تھے اور اب وہیں سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے طالبان حکومت سے ان دہشت گردوں کی حوالگی کا بارہا مطالبہ کیا ہے، مگر طالبان حکومت اس سے انکار کر رہی ہے، جس سے یہ مسئلہ صلاحیت سے زیادہ نیت کا بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی پاکستانی شہری کو واپس لینے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ انہیں طورخم یا چمن بارڈر پر باضابطہ طور پر حوالہ کیا جائے، نہ کہ اسلحہ و گولہ بارود کے ساتھ سرحد پار دھکیلا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کابل میں قائم کسی بھی حکومت سے بات چیت سے کبھی گریز نہیں کرتا، لیکن پاکستان کسی دہشت گرد گروہ چاہے وہ ٹی ٹی پی کا ہو یا بی ایل اے سے مذاکرات نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کے اندر بعض عناصر ایسے ہیں جو پاکستان کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کے ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں، جنہیں غیر ملکی حمایت بھی حاصل ہے۔ یہ عناصر اپنی داخلی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں طالبان کے اس پروپیگنڈے کے برعکس، افغان پالیسی پر کوئی اختلاف نہیں۔ پاکستانی عوام اور ریاست کے تمام ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کے عوام نے برداشت کیا ہے، اور مسلح افواج عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے قربانیاں دے رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے تمام داخلی مسائل سے باخبر اور انہیں حل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور اسی تناظر میں بارہا طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کی حمایت بند کرے۔ ترجمان نے کہا کہ اگست 2021 کے بعد افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے شواہد واضح اور ناقابلِ تردید ہیں۔انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کے بعض عناصر پاکستان میں پشتون قوم پرستی کو بھڑکانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں حالانکہ پاکستان میں پشتون برادری ایک متحرک اور بااثر طبقہ ہے جو ہر شعبے میں قائدانہ کردار ادا کر رہی ہے ۔

انہوں نے زور دیا کہ طالبان حکومت کو پاکستان میں لسانی یا نسلی تفرقہ پیدا کرنے کے بجائے اپنی حکومت پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت دہشت گردی کو پاکستان کا داخلی مسئلہ قرار دیتی ہے، مگر یہ حقیقت نظرانداز کرتی ہے کہ افغانستان میں ایسے عناصر موجود ہیں جو پاکستان کے خلاف حملوں کو شرعی جواز فراہم کرتے ہیں،

اور پاکستان کے اندر سرگرم دہشت گرد گروہوں میں افغان شہریوں کی بڑی تعداد شامل ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج، پارلیمنٹ اور عوام دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متحد ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان دوطرفہ اختلافات کے حل کے لیے ڈائیلاگ ور سفارتکاری پر یقین رکھتا ہے تاہم افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ اولین شرط ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کرنے اور اس کے حامیوں، مددگاروں اور مالی معاونوں کے خلاف بھرپور کارروائی کے لیے پُرعزم ہیں۔

مزیداسی طرح کی
Related

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 3روزہ دورے پر چین پہنچ گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو چین کے دارالحکومت...

آئی۔ایم ایف سے پاکستان کو 1 ارب 30 کروڑ ڈالرز موصول

مرکزی بینک کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا...

آئیکسو چیف ایگزیکٹو کا اٹک سرکل میں بجلی چوروں کےخلاف گرینڈ آپریشن

اسلام آباد(محمد اسحاق عباسی سے) آئیسکو چیف ایگزیکٹو چوہدری...

تازہ ترین