اسلام آباد: وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان میں کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان نے جمعرات کو وزارت تجارت میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور کینیڈا کے درمیان دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا، بالخصوص کان کنی، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی ۔کینیڈین ہائی کمشنر نے وزیر تجارت کو ایشیا بھر میں تجارتی منڈیوں کو متنوع بنانے کے لیے کینیڈا کی کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا اور پاکستان کو کینیڈا کی برآمدات جیسے کینولا آئل، سویا بین اور دالوں کے لیے ایک اہم ابھرتی ہوئی مارکیٹ کے طور پر اجاگر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ کینیڈا آنے والے مہینوں میں تین بڑے ایکسپوز کا انعقاد کرے گا، مارچ میں پی ڈی اے سی کنونشن (مائننگ سیکٹر)، اپریل میں کراپس کینیڈا شو (زرعی شعبہ) اور ٹورنٹو میں کولیشن (آئی ٹی اور ٹیک سیکٹر) کا انعقاد کیا جائے گا۔ ہائی کمشنر نے ان نمائشوں میں پاکستان کی شرکت کی حوصلہ افزائی کی تاکہ شراکت داری کو تلاش کیا جا سکے اور کاروبار سے کاروباری روابط قائم ہوں۔وفاقی وزیر جام کمال خان نے کہا کہ حلال گوشت کی پیداوار ،خوراک، لائیو سٹاک اور تصدیق شدہ مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن پر پاکستان توجہ دے رہا ہے ۔ انہوں نے کینیڈین کمپنیوں کو 25 نومبر کو کراچی میں منعقد ہونے والی پاکستان فوڈ اینڈ ایگریکلچر ایکسپو 2025 میں شرکت کے لیے مدعو کیا جس میں پاکستان کی زرعی اور پراسیس شدہ خوراک کی صلاحیت کو ظاہر کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے ڈیجیٹل تبدیلی، ای کامرس، آئی ٹی برآمدات اور اے آئی پر مبنی فن ٹیک سٹارٹ اپس میں پاکستان کی تیز رفتار پیش رفت کو مزید اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ میٹا اور گوگل جیسی عالمی ٹیک فرموں کے ساتھ اشتراک نے پاکستان کے ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کو وسعت دی ہے۔دونوں اطراف نے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں، ایس ایم ای کی ترقی اور انسانی وسائل کے تبادلے کے پروگراموں میں تعاون کی تلاش میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا، ساتھ ہی عالمی منڈیوں کے لیے پاکستان کی ہنر مند لیبر کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا۔
کینیڈین ہائی کمشنر نے پاکستان کی تجارت دوست پالیسیوں اور بڑھتی ہوئی صنعتی صلاحیتوں کو سراہا۔
انہوں نے کینیڈا میں 300,000 سے زائد پاکستانیوں کی مضبوط آبادی کا بھی ذکر کیا جن میں کینیڈین پارلیمنٹ میں منتخب نمائندے بھی شامل ہیں اور مضبوط ادارہ جاتی اور کاروبار سے کاروباری روابط قائم کرنے کے اقدامات کی حمایت کی۔اجلاس کا اختتام دونوں فریقوں کی جانب سے اقتصادی تعلقات کو گہرا کرنے، مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینے اور دونوں ممالک میں تجارتی نمائش اور سیکٹر کے حوالے سے ہونے والے پروگراموں میں شرکت کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
