- خیبر پختونخوا میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے پیش نظر صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی سکیورٹی کمیٹی کا پہلا اجلاس اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا اجلاس میں حکومتی و اپوزیشن اراکین نے بھرپور شرکت کی ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات، دہشت گردی کے واقعات اور امن عامہ کی بحالی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا اراکین نے تجویز دی کہ تمام سیاسی جماعتیں ذاتی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے قیامِ امن کے قومی ایجنڈے پر یکجا ہوں تاکہ عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے اجلاس کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی
نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر کی زیر نگرانی بنائی گئی یہ پارلیمانی سکیورٹی کمیٹی صوبے میں پالیسی لیول پر ٹھوس سفارشات تیار کرے گی، جس کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں بار بار کولیٹرل ڈیمیج کی بات کر رہا ہوں، بین الاقوامی معیار کے مطابق اگر سو دہشت گردوں میں دو عام شہری جاں بحق ہوں تو اسے قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے، لیکن ہمارے ہاں اکیس بے گناہ سویلین شہید ہو جاتے ہیں، یہ کسی طور بھی کولیٹرل ڈیمیج نہیں بلکہ جنگی جرم ہے ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے بھی ٹھوس تجاویز مرتب کرے گی ایک سوال کے جواب میں، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بیرسٹر سیف کی ممکنہ کابینہ میں شمولیت پر مسکراتے ہوئے کہا، انشائ اللہ بہت جلد سب کچھ واضح ہو جائے گا سیاسی مبصرین کے مطابق پارلیمانی سکیورٹی کمیٹی کا قیام صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے مستقبل میں دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے نتیجہ خیز اقدامات متوقع ہیں
