اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کم عمر افغان نوجوانوں کو دہشتگردی کے لئے استعمال کررہے ہیں،جنوبی وزیرستان میں فرنٹیئر کور خیبر پختونخواہ( ساؤتھ ) نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے خود کش بمبار کو گرفتار کر لیا،گرفتار خود کش بمبار کی شناخت نعمت اللہ ولد موسیٰ جان کے نام سے ہوئی،گرفتار خود کش بمبار افغانستان کے صوبے کندھار کا رہائشی ہے۔ ۔تفصیلات کے مطابق گرفتار خود کش بمبار کے اعترافی بیان میں ہوش ربا انکشافات منظر عام پر آ گئے،خودکش بمبار نعمت اللہ کندھار جوہریہ مدرسہ کا طالب علم ہے جو حفظ کر رہا ہے۔
گرفتار خودکش بمبار نعمت اللہ نے اعترافی بیان میں کہا کہ مدرسہ میں موجود کچھ لوگوں نے مجھے کہا کہ پاکستانی فوج کے خلاف جہاد جائز ہے،ہم 40 لوگ خوست میں اکٹھے ہوئے اور براستہ چیوار پاکستان میں داخل ہو ہے۔خودکش بمبار نے کہا کہ میں نے تربیت کے دوران وہاں اذان کی آواز سنی،مجھے احساس ہوا کہ پاکستانی فوج بھی مسلمان ہے اس پر خودکش حملہ کرنا حرام ہے۔گرفتار خود کش بمبار کے انکشافات اس بات کا ثبوت ہیں کہ افغان طالبان کم عمر نوجوانوں کی ذہن سازی کر رہے ہیں،مذہبی ذہن سازی کے ذریعے ان کم عمر نوجوانوں کو افواج پاکستان کے خلاف دہشتگردانہ سر گرمیوں پر اُکسایا جاتا ہے۔
