اس صورتحال پر سنجیدگی سے سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہے ‘ پیٹرن میاں سہیل نثار، چیئرمین سید محمود غزنوی
لاہور: پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف)کے پیٹرن انچیف میاں سہیل نثار
،چیئرمین سید محمود غزنوی ،سینئر وائس چیئرمین مدثر مسعود چودھری اور وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن نے غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری میں کمی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے یہاں سے کاروبار سمیٹنے کی رپورٹس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران خالص غیر ملکی سرمایہ کاری معمولی رہی جو سالانہ اوسطاًایک ارب ڈالر سے کم اور جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم رہی۔
اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025ء میں خالص غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری تقریباً 2.4ارب ڈالر تک گرگئی جبکہ مشرقی ہمسایہ ملک میں یہ 80ارب ڈالر تھی، مالی سال 2025ء کے ابتدائی مہینوں میں بھی یہ رجحان بہتر نہیں ہو ا۔ اگست 2025ء میں اس کا حجم صرف 156ملین ڈالر رہا جبکہ ماہانہ تجارتی خسارہ تقریباً 2.9ارب ڈالر تھاجو ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کاری نے بیرونی خسارے کا محض 5فیصد ہی پورا کیا۔پیاف کے عہدیداروں نے کہا کہ اس صورتحال پر سنجیدگی سے سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہے اور اس جمود کو توڑنے کے لئے غیر معمولی اقدامات نا گزیر ہو چکے ہیںکیونکہ ایک طرف سرمایہ کاری آ نہیں رہی اوردوسرا سرمائے کی وہ نوعیت ہے جو اب ملک سے باہر جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مارکیٹ کی تلاش میں آنے والے سرمایہ کاروں کو بھی ماحول نا قابل برداشت لگے تو کارکردگی کی تلاش میں آنے والے سرمایہ کار جو فیکٹریاں لگاتے ہیں، سپلائی چینز کو مربوط کرتے ہیں اور برآمدات کرتے ہیں وہ تو یہاں آنے بارے سوچیں گے بھی نہیں۔
٭٭٭
