کراچی: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے بتایا ہے کہ ایف پی سی سی آئی نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی کے تعاون سے اپنے ہیڈ آفس کراچی میں بزنس اینڈ ہیومن رائٹس، بی ایھ آر ڈیسک قائم کر دیا ہے۔ یہ اقدام پاکستان میں انسانی حقوق کے اصولوں کو کاروباری ماحول میں ضم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جو کہ حکومتِ پاکستان کے 2021 میں منظور کردہ نیشنل ایکشن پلان برائے بزنس اینڈ ہیومن رائٹس سے ہم آہنگ ہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی کے مطابق یہ ڈیسک پاکستان کی کاروباری برادری کو انسانی حقوق سے متعلق امور میں آگاہی، صلاحیتوں کی تعمیر، پالیسی سازی میں معاونت اور رہنمائی فراہم کرے گا۔ ایف پی سی سی آئی کے 296 سے زائد رکن ادارے( جن میں چیمبرز آف کامرس، انڈسٹری ایسوسی ایشنز اور ویمن چیمبرز شامل ہیں) اس ڈیسک کے ذریعے اپنی سپلائی چینز میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی، تدارک اور روک تھام کے قابل ہوں گے۔
عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ اس ڈیسک کے کلیدی شعبہ جات میں مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی پائیداری، صنفی مساوات، اور اخلاقی ذرائع سے خریداری کرنا شامل ہیں؛ جو ایک ایسے کاروباری ماحول کو فروغ دیں گے جو منافع کے ساتھ ساتھ سماجی ذمہ داری کا بھی لحاظ رکھتا ہو۔اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کی نائب صدر محترمہ قرة العین کو صدر ایف پی سی سی آئی کی جانب سے کونسل کی چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ اس ڈیسک کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ ایف پی سی سی آئی اخلاقی وکاروباری رویوں اور جامع ترقی کے فروغ کیلئے پرعزم ہے۔ کاروباری سرگرمیوں میں انسانی حقوق کو شامل کر کے، ہم نہ صرف کمزور طبقات کو تحفظ دے سکتے ہیں ؛بلکہ معیشت میں جدت اور نئی راہیں بھی پیدا کرسکتے ہیں۔
نائب صدر ایف پی سی سی آئی قرة العین نے بزنس کمیونٹی کیلئے اس اقدام کے عملی فوائد کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا”آج کی عالمی دنیا میں انسانی حقوق کو نظر انداز کرنا کاروباری اداروں کو بدنامی اور عالمی مارکیٹ سے اخراج کے خطرے سے دوچار کر دیتا ہے۔ یہ ڈیسک ہمارے اراکین کو عملی بصیرت، تربیت اور رہنمائی فراہم کرے گا تاکہ وہ عالمی ویلیو چینز میں دیانتداری کے ساتھ کامیاب ہوں”۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ آج کے دور میں جہاں عالمی سرمایہ کارای ایس جی یعنی کہ ماحولیاتی، سماجی و گورننس اصولوں کو اولین ترجیح دیتے ہیں، یہ ڈیسک پاکستانی کاروباروں کو بین الاقوامی معیارات پر پورا اترنے، برآمدی مسابقت بڑھانے اور پائیدار غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول میں مدد دے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ بی ایچ آر ڈیسک وزارتِ انسانی حقوق، یو این کامپیکٹ گلوبل جیسے بین الاقوامی اداروں، اور سول سوسائٹی کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ورکشاپس، ٹول کٹس کی تیاری اور اقوام متحدہ کے رہنماءاصول برائے بزنس اینڈ ہیومن رائٹس کے نفاذ کی نگرانی کرے گا۔
ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر و ریجنل چیئرمین سندھ عبدالمہیمن خان نے کہا کہ اس اقدام میں خواتین اور پسماندہ طبقات کی شمولیت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کے انسانی حقوق پائیدار ترقی کی بنیاد ہیں۔ یہ ڈیسک ان آوازوں کو بلند کرے گا جو طویل عرصے سے کاروباری گفتگو میں نظر انداز کی جاتی رہی ہیں۔ چاہے وہ منصفانہ مزدوری ہو یا دفاتر میں صنفی برابری، ایف پی سی سی آئی ایک ایسے نجی شعبے کی بنیاد رکھ رہا ہے کہ جو تمام پاکستانیوں کے لیے منصفانہ اور مساوی مواقع فراہم کرے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر امان پراچہ، یو این ڈی پی کے کنسلٹنٹ شیخ حماد امجد اوریو این ڈی پی کے رائٹس بیسڈ ڈویلپمنٹ ایکسپرٹ امر حسن نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور ڈیسک کے مقاصد و اہداف پر روشنی ڈالی۔
