لاہور: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی علاقائی کمیٹی برائے خوراک کے کنوینئر شاہد عمران نے کہا ہے کہ سعودی عرب سے قربت کی وجہ سے پاکستان غذائی مصنوعات کے لیے ایک ترجیحی مقام اور سستا آپشن ہے جس سے سعودی عوام کو تازہ پھلوں اور سبزیوں تک با آسانی رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔
اتوار کو یہاں عائشہ رفاقت کی سربراہی میں خواتین تاجروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حلال خوراک کی برآمدات کی بہترین صلاحیت اور دستیابی کے باوجود سعودی عرب کے ساتھ تجارت میں پاکستان کا حصہ دوسرے ممالک کے مقابلے نسبتا کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ36 ملین کی آبادی کا ملک سعودی عرب اپنی غذائی طلب کا80 فیصد درآمدات سے پورا کر رہا ہے اور اس کی غذائی مصنوعات کی درآمدات آنے والے برسوں میں بڑھتی رہیں گی۔
موجودہ معاشی صورتحال میں سعودی سرمایہ کاری سے زرعی شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور غربت سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ اس سے پاکستان کے لیے زرمبادلہ کے نئے ذرائع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سرمایہ کاری کے بدلے میں سعودی عرب اعلی معیار کی خوراک اور ایک قابل اعتماد پارٹنر حاصل کر سکتا ہے جو بلاتعطل معیاری خوراک کی فراہمی کو یقینی بنا سکتا ہے۔
