اسلام آباد ، جنوری 30:
وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو اور کمشنر علی فرید خواجہ سے فنانس ڈویژن میں ملاقات کی۔
وفاقی وزیر خزانہ نے ایس ای سی پی کی نئی قیادت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اعتماد کا اظہار کیا کہ ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کا ملکی و بین الاقوامی تجربے سے پاکستان کے کپیٹل مارکیٹ کے ریگولیٹری فریم ورک کو جدید بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اجلاس میں کیپٹل مارکیٹس میں سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھانے ، مالیاتی پراڈکٹ کو متنوع بنانے، اور مؤثر ریگولیشنز کے ذریعے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے لئے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر فنانس ڈویژن کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔
وزیر خزانہ نے کیپٹل مارکیٹس ڈیولپمنٹ کونسل کے تحت حکومت کے جامع اصلاحاتی ایجنڈے پر روشنی ڈالی، جس کا مقصد ادارہ جاتی خانوں سے نکل کر پورے مالیاتی نظام میں ہم آہنگ اصلاحات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ۔ ڈیٹ کیپٹل مارکیٹس کی ترقی پر زور دیتے ہوئے انہوں نے بینکوں پر انحصار کم کرنے اور انشورنس، پنشن فنڈز، اثاثہ جاتی انتظامی اداروں اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی مارکیٹ میں شمولیت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں مارکیٹ میں لاگت اور رکاوٹیں کم کرنے، اجرا کے طریقہ کار کو سہل بنانے اور سیکنڈری مارکیٹ کو بہتر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر چئیرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہ کہ سرمایہ کاروں کی ڈیجیٹل آن بورڈنگ، تیز رفتار ڈیجیٹل اکاؤنٹ اوپننگ، رسک بیسڈ کے وائی سی اور ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے مارکیٹ تک آسان رسائی ان کی اولین ترجیح ہے۔ڈاکتر سدھو نے نان بینکنگ سیکٹر ، سمال اینڈ میڈیم فنانسنگ اور انشورنس کے ریگولیٹری فریم ورکس میں بہتری کے حوالے سے اپنے ابتدائی مشاہدات پیش کیے اور مالیاتی شمولیت کو فروغ دینے کے لئے اپنی تجاویز شئیر کیں۔ انہوں نے فنانس ڈویژن اور مارکیٹ کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اصلاحات کو عملی نتائج میں ڈھالنے کے عزم کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر خزانہ نے مارکیٹ کے فروغ اور ریگولیٹری اصلاھات کے لیے اپنے تعاون کا یقین دلایا۔
