برینٹ کروڈ فیوچر کی قیمتوں میں جمعرات کو اچانک اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی وجہ ایران پر ممکنہ امریکی فوجی حملے کے خدشات تھے۔ اوپیک کے چوتھے سب سے بڑے پروڈیوسر کی یومیہ پیداوار تقریباً 3.2 ملین بیرل ہے، اور قیمتیں چھ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔پی وی ایم کے تجزیہ کار جان ایونز نے کہا کہ ”مارکیٹ کی فوری تشویش یہ ہے کہ اگر ایران نے اپنے ہمسایہ ممالک پر حملہ کیا یا حتیٰ کہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا، تو روزانہ 20 ملین بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔“برینٹ کروڈ فیوچر 2.61 ڈالر یا 3.8 فیصد اضافے کے ساتھ دن 2:04 (عالمی معیاری وقت) پر 71.01 ڈالر فی بیرل ہو گیا، جو یکم اگست کے بعد سے بلند ترین سطح ہے۔ جنوری کے معاہدے میں 16 فیصد سے زیادہ اضافہ متوقع ہے، جو چار سال میں سب سے بڑا ماہانہ اضافہ ہوگا۔یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی ) کروڈ 2.54 ڈالر یا 4 فیصد اضافے کے ساتھ 65.75 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ ڈبلیو ٹی آئی فیوچر اس سے قبل 65.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکا تھا، جو چار ماہ کی بلند ترین سطح ہے اور ماہانہ 14 فیصد اضافے کے ٹریک پر تھا، جوجولائی 2023 کے بعد سب سے بڑا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی حملوں کی دھمکیوں اور خطے میں امریکی بحری گروپ کی موجودگی کے ساتھ تہران پر اپنا جوہری پروگرام ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔روئٹرز کے مطابق بعض امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ان اختیارات پر غور کر رہے ہیں جن میں سیکورٹی فورسز اور رہنماؤں پر ٹارگٹ حملے شامل ہیں تاکہ ایرانی حکمرانوں پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔سٹی کے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ ”ایران کے خدشات نے تیل کی قیمتوں کے جیوپولیٹیکل پریمیم کو ممکنہ طور پر 3 سے 4 ڈالر فی بیرل تک بڑھا دیا ہے۔ مزید جغرافیائی سیاسی دباؤ کے نتیجے میں آئندہ تین مہینوں میں برینٹ قیمت 72 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔“اسی دوران قازقستان کے تنگیز آئل فیلڈ میں پچھلے ہفتے بجلی سے مبینہ طور پر لگنے والی آگ سے پیداوار متاثر ہوئی تھی، جو مرحلہ وار دوبارہ شروع ہو رہی ہے تاکہ ایک ہفتے میں مکمل پیداوار بحال کی جا سکے
