اسلام آباد(وقار عباسی سے)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل۔مجوکہ کی عدالت نے متنازعہ ٹویٹس کیس میں وکلای ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو پیکا ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر سترہ سترہ سال قید اور تین کروڑ ساٹھ لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنادیا۔گذشتہ روز سماعت کے دوران جج محمد افضل مجوکہ نے ایس ایس پی آپریشن، ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی کو ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دے دیا اور کہاکہ ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے، ہائیکورٹ کے آڈر کی روشنی میں جرح کا آخری دن ہے، عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا،جس کے بعد سماعت کے دوران پولیس حکام کی جانب سے عدالت میں اپنا جواب جمع کرواتے ہوئے بتایاگیاکہ سیکورٹی ایشوز اور دیگر وجوہات کی بنیاد پر 5 سے 6 گھنٹے کا وقت چاہیے،عدالت سے استدعا کا ملزمان کی بذریعہ ویڈیو لنک پیشی کی اجازت دی جائے،عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ساڑھے دس بجے بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ویڈیو لنک سسٹم چیک کرایا اور سماعت میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کردیا، جس کے بعد تیسری مرتبہ سماعت شروع ہونے پر پراسیکیوٹر بیرسٹر فہد، اسٹیٹ کونسل اور گواہان عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو انٹرنیٹ پرابلم کیوجہ سے بذریعہ ویڈیو لنک پیش نہ کیا جاسکا،عدالت نے اڈیالہ جیل حکام کی استدعا پر 20 منٹ کا وقفہ کردیا، جس کے بعد چوتھی مرتبہ سماعت کے دوران ایمان مزاری، ہادی علی کو جیل سے وڈیولنک کے ذریعے عدالت پیش کردیاگیا، جج محمد افضل مجوکہ نے استفسار کیاکہ کیا آپ جرح شروع کریں گے؟، جس پر ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے میڈیا کی کمرہ عدالت موجودگی سے متعلق استفسار کرتے ہوئے جج محمد افضل مجوکہ سے کہاکہ ہم پر تشدد کیاجارہاہے،ہمیں پانی کھانا نہیں دیاجارہا،تم اپنی نوکری کررہےہو،تماری وجہ سے سارا کچھ ہورہاہے،ہم عدالتی کارروائی کا بائکاٹ کرتےہیں، جس پر جج محمد افضل مجوکہ نے کہاکہ مطلب آپ کاروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے؟ جج افضل مجوکہ نے کہاکہ فیصلے کا انتظار کریں، ایمان مزاری، ہادی علی سماعت ختم ہونے سے قبل کرسی سے اٹھ کر چلے گئے جبکہ جج محمد افضل مجوکہ نے عدالتی عملہ سے کہاکہ سب ریکارڈ کرکے مجھے دیں،بعد ازاں اشرف گجر ایڈووکیٹ عدالت پیش ہوگئے اور کہاکہ آپ انکو عدالت میں طلب کرلیں،جس پر جج محمد افضل مجوکہ نے کہاکہ وہ آن لائن پیش ہوئے ہیں،آپ کی ریکوسٹ کو دیکھ لیتا ہوں،ساری سماعت کا ریکارڈ موجود ہے دیکھ لیتے ہیں،آپ کی درخواست پر تحریری آڈر کرتا ہوں،بعد ازاں شام گئے عدالت نے دونوں ملزمان کاجرم ثابت ہوجانے پر مجموعی طور پر سترہ سترہ سال قید اور جرمانہ کی سزا کا حکم سنادیا، عدالت کاکہنا تھاکہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک پر پیش کیا گیا،ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا تھا،ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کوقید وجرمانہ کی سزا کا حکم سنایاجاتاہے، عدالت کی جانب سے جاری22 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ میں عدالت کا کہناہے کہ ایمان مزاری، ہادی علی کو پیکاایکٹ کے سیکش9 کےتحت 5سال قید، جرمانہ50لاکھ روپے جرمانہ،سیکشن10 کے تحت دس سال قیداور تین کروڑ روپے جرمانہ جبکہ سیکشن26اے کے تحت دوسال قیداور دس لاکھ روپے جرمانہ کی سزا دی جاتی ہے۔ہائیکورٹ نے آج کے دن تک ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گواہان پر جرح کا حکم دے رکھا تھا،ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دیگر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ کے باعث بذریعہ ویڈیو لنک پیش کیا گیا تھا،پراسکیوشن کیجانب سے بیرسٹر فہد، عثمان رانا ایڈووکیٹ، بیرسٹر منصور اعظم جبکہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیجانب سے اسٹیٹ کونسل تیمور جنجوعہ عدالت میں پیش ہوئے،پراسکیوشن کیجانب سے کیس میں مجموعی طور پر 5 گواہان پیش کئے گئے اور 30 صفحات سے زائد پر مشتمل چالان عدالت میں پیش کیا،ایمان مزاری اور ہادی علی پر پی ٹی ایم، ودیگر کالعدم تنظیموں کا ایجنڈا پھیلانے کا الزام تھا،ملزمان پر ریاستی اداروں کیخلاف مواد کی تشہیر کا بھی الزام تھا،پراسکیوشن کیجانب سے چالان میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی مختلف ٹویٹس بھی بطور ثبوت فراہم کی تھی، پراسیکیوشن کیجانب سے ایمان مزاری کی ریاست مخالف تقریر بھی عدالت میں پیش کی گئی تھی۔
