راولپنڈی: پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں 20 اکتوبر 2025 کو تین روزہ دوسری بین الاقوامی پریسژن ایگریکلچر کانفرنس کا آغاز ہوا جس کا انعقاد یونیورسٹی کے سینٹر فار پریسژن ایگریکلچر نے کیا ہے۔ اس کانفرنس کا مقصد صنعت کاروں، محققین اور ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا اور روایتی زراعت میں جدت لانا ہے، اسی لیے کانفرنس کا مرکزی موضوع "ڈیجیٹل اختراعات کے ذریعے زراعت کی تبدیلی” رکھا گیا ہے۔ کانفرنس میں امریکہ، کینیڈا اور چین سمیت مختلف ممالک سے بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی۔ ان کے علاوہ کانفرنس میں 200 سے زائد محققین بشمول طلباء، سٹیک ہولڈرز اور نجی اور سرکاری شعبے کے نمائندوں بھی شریک ہوئے۔
کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان (ستارہ امتیاز، ہلالِ امتیاز) چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کہا کہ ہمیں ملک میں ڈیجیٹل اور پرسیژن زراعت کو فروغ دینے اور اسے مقبول بنانے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانفرنسیں ہم سب کے لیے یکساں مفید ہیں کیونکہ ان کے ذریعے ہم ایک دوسرے کے علم اور تجربات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک اہم موقع ہے، خاص طور پر فیکلٹی ممبران اور طلباء کے لیے، اس کانفرنس کے تکنیکی سیشنز میں خصوصی طور پر شرکت کرکے اپنے علم میں اضافہ کریں۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے کہا کہ زرعی شعبوں کو جدید طریقے سے زراعت کی ٹیکنالوجی کو اپنا کر منظم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان میں پریسیژن ایگریکلچر کے شعبے میں بہت زیادہ پوٹینشل ہے جو پیداوار کے فرق کو کم کرنے اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں بھی مددگار ثابت وہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی سمارٹ ٹیکنالوجیز کی ترقی موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے۔
زرعی نمائش کا دورہ کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے کہا کہ میں تمام محققین، طلباء اور بالخصوص کسانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آئیں اور جدید زرعی آلات اور مشینری کی اس نمائش سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ زراعت کا منظر نامہ بدل رہا ہے اور اب کاشتکاری کے روایتی طریقوں میں تبدیلی ناگزیر ہو گئی ہے۔ ہمارا مقصد نہ صرف موجودہ بلکہ اگلے کئی سال کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہے اور جدید زراعت ہی ہمارا مستقبل ہے۔
یونیورسٹی آف پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ کینیڈا سے ڈاکٹر اعتزاز اے فاروق، یونیورسٹی آف فلوریڈا، یو ایس اے سے ڈاکٹر ہیمانوٹ کے بیبیل اور ڈلہوزی یونیورسٹی کینیڈا سے ڈاکٹر کریگ میکیچرن نے کلیدی خطبے پیش کیے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ جدید زرعی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل زراعت کو فروغ دے کر نہ صرف زرعی پیداوار میں خود کفالت حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ زرعی مصنوعات کی برآمد سے قیمتی زرِ مبادلہ بھی کمایا جا سکت ہے۔
کانفرنس کا ایک اور اہم حصہ فوڈ فیسٹ 2025 تھا جہاں یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ اینڈ نیوٹریشنل سائنسز کے 80 سے زائد طلباء نے کھانے کے مختلف اسٹالز لگائے۔ طلباء گھر کا پکا ہوا کھانا لے کر آئے اور ان کھانوں کے ذریعے انہوں نے یہ پیغام دیا کہ اچھی اور متوازن غذا اچھی صحت کی ضامن ہے۔ اس کے علاوہ آئی ٹی نمائش، برڈ شو، آرٹ اور کرافٹ کی نمائش اور پوسٹر مقابلہ بھی کانفرنس کا حصہ تھے۔ آخر میں معزز مہمانوں، حاضرین اور شرکاء کو شیلڈز اور سووینئر بھی پیش کیے گئے۔
