مالیاتی ادارے سیلاب کے معیشت پر اثرات بارے نشاندہی کر رہے ہیں, حکومت ایسی پالیسیاں بنائے جس سے معیشت دبائو سے نکلے ،سرمائے کی قلت دور کرنے کیلئے بینکوں کو متحرک کیا جائے,خادم حسین
لاہور: فائونڈر ز گروپ کے سرگرم رکن ،پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن ، سینئر نائب
صدر فیروز پور روڈ بورڈاورسابق ممبر لاہور چیمبر آف کامرس خادم حسین نے کہا ہے کہ سیلاب کے معیشت پر پڑنے والے اثرات آنے والے مہینوں میں سامنے آئیں گے جس کی مرکزی بینک اور عالمی مالیاتی ادارے بھی نشاندہی کر رہے ہیں ،زراعت ،انفرااسٹرکچر کو پہنچنے والے شدید نقصانات سے مالی خسارے اور مہنگائی بھی بڑھے گی جس کی وجہ سے یقینی طور پر گروتھ بھی متاثر ہو گی۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ غیر جانبدار تجزیہ کرنے والے معاشی ماہرین واضح کہہ رہے ہیں کہ زرعی شعبے اور بنیادی ڈھانچے کو سیلاب سے پہنچنے والے نقصانات مجموعی معاشی منظرنامے کے لیے خطرات پیدا کر رہے ہیں،زرعی اجناس خصوصاً کپاس کی کمی درآمدات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے جس کی وجہ سے خسارہ مزید بڑھے گا ،عالمی معاشی سست روی رواں مالی سال کے دوران برآمدات پر دبا ئوڈالے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی پالیسیاں بنائے جس سے معیشت دبائو سے نکلے اور اسے تحرک ملے ، اس کے لئے بینکوں کو متحرک کیا جائے کہ وہ مقامی مارکیٹ میں سرمائے کی قلت دور کرنے کیلئے اپنا کردار بڑھائیں ۔ زراعت پر بھرپور توجہ مرکوز کی جائے ، ایسے حالات میں کسان کا ہا تھ تھاما جائے اور اسے تمام زرعی مداخل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔
