پالیسیوں کی تشکیل میں معیشت میں حصہ ڈالنے والے اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت یقینی بنائی جائے’راجہ وسیم حسن
لاہور: پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف ) کے پیٹرن انچیف میاں سہیل نثار ،چیئرمین سید
محمود غزنوی ،سینئر وائس چیئرمین مدثر مسعود چودھری اور وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن نے کہا ہے کہ ایف بی آر سمیت دیگر اداروںکی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے سرکاری اور نجی شعبے پر مشتمل تھرڈ پارٹی کونسلز کا قیام نا گزیر ہے ،جب تک ایف بی آر کے نظام میں پائی جانے والی بنیادی خرابیاں دور نہیں ہوتیں ٹیکسیشن کے نظام کو مضبوط بنیاد نہیں مل سکتی ۔
اپنے مشترکہ بیان میں پیاف کے عہدیداروں نے کہا کہ ہمارے ہاں معیشت کی بہتری اور ترقی میں تسلسل نہیں ہے جس کی بہت سی وجوہات ہیں ،ان میں ایک یہ ہے کہ کوئی بھی پالیسی بناتے وقت اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا اور بند کمروں میں فیصلے کئے جاتے ہیں ، دوسرا طویل المدت کی بجائے ایڈ ہاک ازم ہے جس کے نتائج نہیں نکلتے ۔
انہوں نے کہا کہ صرف پہلی سہ ماہی میں ہی خسارہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.4ارب ڈالر بڑھ چکا ہے،اگر سیلابوں کے اثرات کو شامل کیا جائے تو امکان ہے کہ 26-2025کے اختتام تک تجارتی خسارہ مزید کئی گنا بڑھ جائے گا ۔کسی بھی شعبے سے پوچھ لیں وہ خوش دلی سے حالات کا تذکرہ نہیں کرے گا ،اس کی بنیادی وجہ اسٹیک ہولڈرز کو مشاورت کے عمل میں شامل نہ کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بیورو کریسی کی اپنی اہمیت ہے لیکن جب تک پالیسیوں کی تشکیل میں معیشت میں حصہ ڈالنے والے اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت کو یقینی نہیں بنایا جائے گا نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔
