لاہور: سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے پاک۔سعودی تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور حالیہ تاریخی طویل المدتی مشترکہ سکیورٹی معاہدے کو وسیع تر ”گلف اکنامک ٹرانسفارمیشن“ سے ہم
آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ اتوار کو یہاں ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممبران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان کے ساتھ گہرے روابط میں مضمر ہے۔
آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ اتوار کو یہاں ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممبران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان کے ساتھ گہرے روابط میں مضمر ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے، جس کی سالانہ تجارت 5 سے 6 ارب ڈالر ہے۔ اس کے باوجود یہ تجارت انتہائی کم ہے ہے کیونکہ پاکستان کی درآمدات کا بڑا حصہ پیٹرولیم مصنوعات ہیں، جب کہ برآمدات میں چاول، ٹیکسٹائل، چمڑے اور سرجیکل کا سامان شامل ہے۔ کمزور منصوبہ بندی، کم پیداواری صلاحیت اور ترجیحی معاہدوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے تجارت جمود کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب انفراسٹرکچر، کان کنی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے لیکن پاکستان کا اس سرمائے میں حصہ بہت کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان توانائی کے بحران، گردشی قرضوں اور ایندھن کی مہنگی درآمدات میں الجھا ہوا ہے۔ پاکستان کو سستی اور پائیدار توانائی کی ضرورت ہے جبکہ سعودی عرب کو اپنے گرین پورٹ فولیو کو بڑھانے کے لیے شراکت داروں کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے سولر اور ونڈ کوریڈور سعودی سرمائے کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں کیونکہ اسلامی گرین بانڈز جدید فنانسنگ کی سہولت پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک مجموعی طور پر 2 ٹریلین ڈالر کی معیشت ہیں جس میں دنیا کے سب سے بڑے خودمختار دولت کے فنڈز اور تیزی سے بڑھتے ہوئے توانائی کی منتقلی کے پروگرام موجود ہیں۔ اس بلاک کے ساتھ پاکستان کی تجارت اس وقت بھی تیل کی درآمدات اور مزدوروں کی برآمدات پر مرکوز ہے جبکہ آئی ٹی، فوڈ پراسیسنگ، انجینئرنگ سروسز اور قابل تجدید توانائی میں بے پناہ صلاحیت اور امکانات موجود ہیں۔
افتخار علی ملک نے کہا کہ سعودی عرب کا وژن 2030، متحدہ عرب امارات کی تنوع کی مہم، اور نالج انڈسٹری میں قطر کی سرمایہ کاری میں بہت زیادہ مواقع میسر ہیں۔ خلیجی ریاستیں مصنوعی ذہانت، فن ٹیک اور بائیو ٹیکنالوجی میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ پاکستان سیاسی استحکام اور ریگولیٹری فریم ورک کے ذریعے ان مواقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ پاکستان اپنی نوجوان آبادی اور آئی ٹی ٹیلنٹ کے بل پر خود کو ان کا ایک بڑا شراکت دار بنا سکتا ہے۔ دوسری طرف خلیجی ممالک کو غذائی تحفظ کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاکستان اس شعبے میں بھی ایک قابل اعتماد پارٹنر کے طور پر ابھر سکتا ہے بشرطیکہ وہ اپنے زرعی شعبے میں جدید خطوط پر اصلاحات کرے۔
انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ دفاعی معاہدہ پاک سعودی تعلقات میں بہت بڑا سنگ میل ہے لیکن حقیقی اقتصادی ترقی و خوشحالی کے لیے پاکستان کو وسیع ”گلف اکنامک ٹرانسفارمیشن“ کا حصہ بننا ہو گا۔
