بیروت: غزہ میں جنگ بندی ہوگئی مگر اسرائیل مشرق وسطیٰ کے دیگر ملکوں پر حملوں سے باز نہ آیا۔ اسرائیلی فوج نے لبنان میں حزب اللّٰہ کے مبینہ انفراسٹرکچر پر فضائی حملہ کر دیا۔ جمعہ کو بارہ بجے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی تاہم اس کے کچھ ہی دیر بعد اسرائیل نے لبنان کے جنوبی علاقے پر بمباری کی ہے۔
دوسری جانب غزہ جنگ بندی معاہدہ نافذ العمل ہونے کے بعد فلسطینیوں نے بچا کچا سامان اٹھا کر اپنے تباہ حال گھروں کا رخ کرلیا، ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی شہری اپنے گھروں کو واپس آنے لگے۔ اسرائیلی فوج نے معاہدے کے تحت نئی حدود پر پوزیشنیں سنبھالنی شروع کردیں۔
امریکا کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے اسرائیلی فوج نے انخلا کا پہلا مرحلہ مکمل کرلیا، یرغمالیوں کی رہائی کے لیے 72 گھنٹے کا وقت شروع ہوگیا ہے۔ حماس، اسلامی جہاد اور پاپولرفرنٹ کا مشترکہ بیان میں کہنا ہے کہ غزہ کی گورننس خالصتاً فلسطین کا داخلی معاملہ ہے، کسی غیر ملکی سرپرستی کو قبول نہیں کیا جائے گا، عرب اور بین الاقوامی ممالک کا غزہ کی تعمیرنو میں تعاون کاخیر مقدم کیا ہے۔
