تل ابیب :اسرائیلی کنیسٹ کی قومی سلامتی کمیٹی نےاپنی پہلی خواندگی میں ایک بل کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دی جا سکے گی، اس بل کو دہشت گردوں کے لیے سزائے موت کا قانون قرار دیا جا رہا ہے۔العربیہ اردو کے مطابق کمیٹی نے بل کو چار کے مقابلے میں ایک ووٹ سے منظور کرتے ہوئے مزید کارروائی کے لیے کنیسٹ کے مکمل ووٹ کے سامنے پیش کر دیا ہے۔
یہ اقدام اسرائیلی سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید تنازعہ کا باعث بن گیا ہے۔کمیٹی کے قانونی مشیر ادو بین یتزاک نے خبردار کیا ہے کہ چونکہ ووٹنگ کنیسٹ کی چھٹی کے دوران ہوئی، اس لیے یہ غیر قانونی ہو سکتی ہے۔اسی طرح سکیورٹی اداروں کے نمائندوں کی غیر موجودگی اور قانون کی تفصیلات پر عدم بحث پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم کے قیدیوں کے امور کے ترجمان گال ہرش نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس بل کی منظوری سے غزہ کی پٹی میں قید یرغمالیوں کی رہائی کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ طے شدہ ملاقات واشنگٹن میں متوقع ہے۔ دونوں رہنماؤں کی بات چیت میں فلسطینی ریاست کے معاملے اور غزہ کی صورتحال پر توجہ دیے جانے کا امکان ہے۔
