28.6 C
Islamabad

اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی تعمیر فوری روکے، پاکستان

اقوام متحدہ۔30ستمبر (اے پی پی):پاکستان نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع کو فوری طور پر روکے، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں، خصوصاً قرارداد 2334 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے15 رکنی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا E-1 منصوبہ ’’دو ریاستی حل پر براہ راست حملہ‘‘ ہے جس سے بیت المقدس کے مشرقی حصے کو فلسطینی علاقوں سے الگ کرنے اور مغربی کنارے کےاتصال کے ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 پر عمل درآمد سے متعلق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی سہ ماہی رپورٹ پر بحث کے دوران کہا کہ یہ پالیسیاں نہ صرف ناانصافی پر مبنی ہیں بلکہ غیر قانونی بھی ہیں۔

قرارداد میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں ہر قسم کی آبادکاری کی سرگرمیوں کو فوری اور مکمل طور پر روکے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ اگر سلامتی کونسل اپنی ہی قراردادوں پر عملدرآمد نہ کراسکی، تو اس کی ساکھ خطرے میں پڑ جائے گی۔ پاکستانی مندوب نے ’’امید کی کرن‘‘ خاص طور پر فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والی ’’دو ریاستی حل کانفرنس ‘‘ اور حالیہ دنوں میں کئی ممالک کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے کا ذکر بھی کیا ۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ ہم امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اُس کوشش کی قدر کرتے ہیں جو انہوں نے او آئی سی اور 8 عرب ممالک کے ساتھ مل کر امن کے فروغ کے لئے عملی اقدامات کے ذریعے کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اتفاق رائے کو فروغ دینے کے لئے قریبی تعاون اور تعمیری کردار ادا کرے گا، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مقصد یہ ہے کہ یہ کوششیں فلسطینی عوام کی مشکلات میں کمی کا سبب بنیں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانونی جواز کے مطابق ایک پائیدار اور مستقل امن کے قیام کی جانب پیش رفت ہو، جو ایک خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی امن عمل کے لئے فلسطینیوں اور فلسطینی اتھارٹی کی مکمل ملکیت اور قیادت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔غزہ میں اکتوبر 2023 میں اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 66,000 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ غزہ صرف فضائی بمباری کا نشانہ نہیں بن رہا بلکہ فلسطینیوں کو زمین پر بھوکا رکھ کر بھی مارا جا رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری نے گھروں، سکولوں اور ہسپتالوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔غزہ شہر میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک المیہ بن چکا ہے، جو تقریباً دس لاکھ افراد کی جبری بے دخلی کے خطرے کو جنم دے رہا ہے ایسے لوگ جن کے پاس اب کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں رہی۔

اس تناظر میں پاکستانی مندوب نے فوری جنگ بندی، غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی، یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور اسرائیلی غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کے خاتمے، غزہ یا مغربی کنارے کے الحاق کی سختی سے مخالفت، اقوام متحدہ کی قرارداد 2334 کے نفاذ اور دو ریاستی حل کی عملداری کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

انہوں نے ایک ایسے سیاسی عمل کے آغاز کی ضرورت کو اجاگر کیا جو 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پرایک خودمختار اور باہم مربوط ریاستِ فلسطین کے قیام کی جانب لے جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو ۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ فلسطینی عوام مزید انتظار نہیں کر سکتے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور خطے میں سب کے لئے ایک منصفانہ اور دیرپا امن کے قیام کے لئے سلامتی کونسل کے ارکان اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

مزیداسی طرح کی
Related

اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کا انعقاد حکومت اورالیکشن دوبارہ آمنے سامنے

اسلام آباد(وقائع نگار )وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی...

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 3روزہ دورے پر چین پہنچ گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو چین کے دارالحکومت...

آئی۔ایم ایف سے پاکستان کو 1 ارب 30 کروڑ ڈالرز موصول

مرکزی بینک کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا...

تازہ ترین