امریکا نے ایران پر ایک بار پھر نئے حملے کرتے ہوئے اسٹریٹجک بندرگاہی شہر بندر عباس میں ایک فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے اطراف خطرہ بننے والے ایران کے چار یک طرفہ حملہ آور ڈرون بھی مار گرائے۔عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ اور بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سینٹ کام نے بتایا کہ بندر عباس میں موجود فوجی مقام کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہاں سے پانچواں ڈرون لانچ کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق شہر کے مشرقی علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان ایک نازک جنگ بندی برقرار ہے اور تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔اس جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی جبکہ عالمی توانائی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔تین روز کے دوران یہ دوسرا موقع ہے جب امریکا نے ایران میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ واشنگٹن کا کہنا تھا کہ یہ حملے دفاعِ ذات کے تحت کیے گئے۔ تاہم نئی جھڑپوں نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔سینٹ کام نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی کارروائیاں محدود، مکمل طور پر دفاعی اور جنگ بندی برقرار رکھنے کے مقصد کے تحت کی گئیں۔اس سے قبل رواں ہفتے پیر کے روز امریکا نے جنوبی ایران میں بھی دفاعی نوعیت کے حملوں کی تصدیق کی تھی، جن میں ایرانی میزائل تنصیبات اور آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ تنازع کے باعث ہزاروں تجارتی آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں
