امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان ڈیاگو کی سب سے بڑی مسجد میں فائرنگ کا ہولناک واقعہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں سیکیورٹی گارڈ سمیت تین نمازی جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ کارروائی کے بعد دونوں مبینہ حملہ آوروں نے بھی خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی ہے۔سان ڈیاگو کے پولیس چیف اسکاٹ واہل نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پولیس واقعے کی نفرت پر مبنی جرم کے طور پر فعال تفتیش کر رہی ہے اور جب تک حقیقت سامنے نہیں آتی، اسے اسی زاویے سے دیکھا جائے گا۔پولیس کے مطابق جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو مسجد کے باہر تین بالغ افراد مردہ حالت میں پائے گئے۔جاں بحق ہونے والوں میں ایک سیکیورٹی گارڈ بھی شامل ہے۔پولیس چیف اسکاٹ واہل نے گارڈ کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی گارڈ نے وہاں موجود لوگوں کی جانیں بچانے اور اس حملے کے نقصان کو مزید بڑھنے سے روکنے میں ایک انتہائی اہم کردار ادا کیا، ”وہ ایک ہیرو تھا“۔
حملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لگ بھگ 50 سے 100 اہلکار چار منٹ کے اندر مسجد کے اندر پہنچ گئے اور سرچ آپریشن شروع کیا۔اس دوران اہلکاروں کو عمارت کے مختلف کمروں میں داخل ہونے کے لیے دروازے بھی توڑنے پڑے۔مسجد میں فائرنگ کے ساتھ ہی پولیس کو چند گلیوں کے فاصلے پر ایک اور فائرنگ کی کال موصول ہوئی جہاں ایک مالی پر گولی چلائی گئی تھی، تاہم خوش قسمتی سے وہ محفوظ رہا۔اس کے کچھ ہی دیر بعد پولیس کومسجد کے قریب ہیرٹن اسٹریٹ پر ایک گاڑی میں دو نوجوانوں کی لاشیں ملیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ اس حملے کے ذمہ دار تھے۔پولیس چیف کا کہنا تھا کہ گاڑی میں مردہ پائے جانے والے حملہ آوروں کی عمریں 17 اور 18 سال تھیں اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دونوں ملزمان نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔
پولیس چیف نے مزید واضح کیا کہ تفتیش کے ابتدائی مرحلے کے مطابق پولیس کے کسی اہلکار نے گولی نہیں چلائی۔امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف بی آئی‘ کے سان ڈیاگو فیلڈ آفس کے اہلکار مارک ریمیلی نے تحقیقات کے حوالے سے بتایا کہ مقامی پولیس اور ایف بی آئی کے خصوصی ایجنٹس، شواہد اکٹھا کرنے والے ماہرین اور متاثرین کی مدد کرنے والا عملہ مل کر کام کر رہا ہے۔تفتیشی حکام کے مطابق ایک حملہ آور نے یہ ہتھیار اپنے والدین کے گھر سے چوری کیے تھے، جن میں سے ایک ہتھیار پر نفرت انگیز جملے لکھے ہوئے تھے جبکہ گاڑی سے ایک خودکشی کا نوٹ بھی ملا ہے جس میں نسلی برتری اور فخر کے حوالے سے باتیں لکھی گئی تھیں۔مسجد کی سیکیورٹی کیمروں کی ویڈیوز کو بھی شواہد کے طور پر جانچا جا رہا ہے۔اس افسوسناک واقعے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوزم کو تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے سان ڈیاگو فائرنگ کے بارے میں ابتدائی معلومات ملی ہیں، یہ ایک انتہائی خوفناک صورتحال ہے اور میری انتظامیہ اس معاملے کی کڑی نگرانی کرتی رہے گی۔دوسری جانب سان ڈیاگو اسلامک سینٹر کے ڈائریکٹر اور امام طحہٰ حسان نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی عبادت گاہ کو اس طرح نشانہ بنانا انتہائی شرمناک اور ناقابلِ برداشت اقدام ہے۔
