وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بدھ کے روز مختلف شعبوں کی مالی اور عملی ضروریات پوری کرنے کے لیے 66.11 ارب روپے سے زائد کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس (ٹی ایس جیز) کی منظوری دے دی، جن میں درآمدی یوریا پر دی جانے والی سبسڈی کی مد میں 23.42 ارب روپے بھی شامل ہیں۔ یہ سبسڈی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان 50:50 کے تناسب سے تقسیم کی جائے گی۔ای سی سی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہوا، جس میں معیشت کے استحکام، صارفین کے تحفظ، سماجی خدمات کی بہتری اور اہم سرکاری اداروں کی آپریشنل ضروریات سے متعلق متعدد امور کا جائزہ لیا گیا۔ وزارت تجارت کی درخواست پر منظور کی گئی یوریا سبسڈی میں سے 15 ارب روپے فنانس ڈویژن جاری کرے گا جبکہ باقی رقم مالی گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے فراہم کی جائے گی۔وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد سے جب سبسڈی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ یہ کوئی نئی سبسڈی نہیں بلکہ پہلے سے موجود اور ہدفی نوعیت کی ہے۔
کمیٹی نے پاسکو کے 500,000 میٹرک ٹن گندم ذخائر کو مسابقتی بولی کے ذریعے فروخت کرنے کی منظوری بھی دی۔ اس اقدام کا مقصد اضافی ذخائر میں کمی، ذخیرہ کرنے کے اخراجات میں کمی اور مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کا استحکام برقرار رکھنا ہے جبکہ غذائی تحفظ کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ اسی سلسلے میں پنجاب حکومت کے محکمہ خوراک کو 300,000 میٹرک ٹن گندم فراہم کرنے کی منظوری دی گئی تاکہ آٹا ملوں کو مناسب فراہمی، قیمتوں میں استحکام اور صارفین کو آٹے کی مسلسل دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ای سی سی نے پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے ذمے یوٹیلٹی کمپنیوں کے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے 10.98 ارب روپے کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی بھی منظوری دی، جو کئی برسوں سے واجب الادا تھے
