بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی نے کہا ہے کہ وہ فروری میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد قومی اتحاد کی حکومت میں شمولیت کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں مختلف سیاسی جماعتوں سے بات چیت بھی کر چکی ہے۔جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے بدھ کے روز رائٹرز کو انٹرویو میں بتایا کہ پارٹی ایک مستحکم حکومت چاہتی ہے جو کم از کم پانچ سال تک ملک کو استحکام فراہم کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی جماعتیں باہمی اتفاق رائے پر پہنچیں تو مشترکہ طور پر حکومت چلائی جا سکتی ہے۔رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق جماعتِ اسلامی فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے بعد دوسری بڑی جماعت بن کر ابھر سکتی ہے۔ یہ تقریباً 17 برس بعد پہلا موقع ہوگا کہ جماعتِ اسلامی کسی قومی انتخاب میں حصہ لے رہی ہے، جو ملک کی مرکزی سیاست میں اس کی واپسی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔جماعتِ اسلامی اس سے قبل 2001 سے 2006 کے درمیان بی این پی کی اتحادی حکومت میں شامل رہ چکی ہے اور اب ایک بار پھر بی این پی کے ساتھ کام کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ شفیق الرحمان نے کہا کہ کسی بھی اتحاد کی بنیادی ترجیح بدعنوانی کے خلاف مشترکہ ایجنڈا ہونا چاہیے
