اسلام آباد(وقائع نگار)انسداددہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا کی عدالت نے پی ٹی آئی راہنماوں اور کارکنان کیخلاف احتجاج کیس میں چالان پیش نہ کرنے پر ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس جواد طارق کو ایک ماہ قید لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنادی ۔گذشتہ روز سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیاکہ اس کیس کا چالان کدھر ہے؟ جس پر۔پراسیکیوٹر راجہ نوید نے عدالت کو بتایاکہ ابھی تک چالان ہمیں موصول نہیں ہوا، جج طاہر عباس سپرا نے کہاکہ میں متعدد بار چالان کیلئے کہہ چکا ہوں نوٹس بھی کر چکا ہوں،میں نے ڈی آئی جی کو طلب کیا تھا یہ پیش کیو نہیں ہورہا،پولیس والے کام کرنے کو تیار ہی نہیں میں اسکو سزا سناتا ہوں، جج طاہر عباس سپرا نےتفتیشی افسر سے کہاکہ تفتیشی صاحب جاکر بتا دیجئے گا اپنے ڈی آئی جی کو عدالت نے سزا دے دی ہے، ہراسیکیوٹر نے کہاکہ سر ابھی کیلئے نوٹس کردیں سزا کا معاملہ بعد میں دیکھ لیجئے گا،عدالت نے ڈی آئی جی کو ایک مہینہ کی سزا اور ایک لاکھ جرمانہ کا حکم سنادیا، جج طاہر عباس سپرا نے سٹینو سے کہاکہ سٹینو صاحب آڈر ٹائپ کریں،جج طاہر عباس سپرا نے زبانی آڈر سنانے کے بعد کمرہ عدالت میں ہی آڈر ٹائپ کروایا اور پھر چیمبر میں چلے گئے، بعدازاں سماعت کے جاری تحریری حکمنامہ میں عدالت نے ڈی آئی جی آپریشنز کو سزا سے قبل حتمی نوٹس جاری کرتے ہوئے کہاکہ بادی النظر میں ڈی آئی جی آپریشنز عدالتی حکم عدولی کے مرتکب ہوئے،ڈی آئی جی جواب دیں عدالتی حکم عدولی پر کیوں نہ آپ کو سزا سنائی جائے ؟،تحریری حکمنامہ میں عدالت کایہ بھی کہناہے کہ ڈی آئی جی (آپریشنز) اسلام آباد کو دفعہ 37 اے ٹی اے کے تحت حتمی نوٹس جاری کیا جاتا ہے،ڈی آئی جی (آپریشنز) اسلام آباد کو نوٹس جاری کیا گیا کیوں نہ انہیں توہینِ عدالت کا مجرم قرار دے کر سزا سنائی جائے،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد آئندہ سماعت تک اپنا تحریری جواب عدالت میں جمع کرائیں،تفتیشی افسر کو بارہا مکمل چالان جمع کرانے کی ہدایت کی گئی لیکن کچھ نہیں کیا گیا،عبوری چالان میں ملزمان کی حیثیت واضح نہ ہونے کی وجہ سے ٹرائل شروع نہیں ہو سکا،گذشتہ سماعت پر ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد کو دفعہ 37 اے ٹی اے کے تحت نوٹس جاری کر کے تحریری جواب طلب کیا گیا تھا،گذشتہ نوٹس کے باوجود نہ تو ڈی آئی جی آپریشنز عدالت پیش ہوئے اور نہ ہی تحریری جواب جمع کرایا گیا،ریکارڈ کے مطابق ڈی آئی جی (آپریشنز) اسلام آباد کے خلاف کارروائی کے لیے بظاہر کافی مواد موجود ہے،ڈی آئی جی (آپریشنز) قانونی طور پر عدالت میں چالان پیش کرنے کے پابند تھے لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے،خصوصی پراسیکیوٹر اور نئے تفتیشی افسر انسپکٹر ظفر اقبال نے تفصیلی رپورٹ اور چالان جمع کرانے کے لیے مختصر مہلت کی استدعا کی،عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ تفتیشی افسر تبدیل کر دیا گیا ہے اور عدالت کے احکامات پر من و عن عمل کیا جائے گا،ملزمان سہیل آفریدی، جنید اکبر اور عبدالغنی کی گرفتاری مطلوب ہونے کے باعث ان کے نام کالم نمبر 2 میں رکھ کر عبوری چالان جمع کرایا گیا تھا،عدالت کیس کی مزید سماعت 6 جولائی تک ملتوی کرتی ہے۔
