40.5 C
Islamabad

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی

سال 2026 کے آغاز سے ہی خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ۔ یہ کمی ایک ایسے سال کے بعد سامنے آئی ہے جس میں 2020 کے بعد سالانہ بنیادوں پر سب سے زیادہ خسارہ دیکھا گیا تھا۔ اس وقت سرمایہ کار جہاں اوورسپلائی کے خدشات کو مدنظر رکھ رہے ہیں، وہیں یوکرین جنگ اور وینزویلا کی برآمدات جیسے جیو پولیٹیکل (جغرافیائی و سیاسی) خطرات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔جمعہ کو برینٹ کروڈ کے سودوں میں 51 سینٹ کی کمی دیکھی گئی جس کے بعد قیمت 60.34 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل بھی 52 سینٹ کی کمی کے ساتھ 56.90 ڈالر پر جاپہنچا۔ادھرنئے سال کے موقع پر روس اور یوکرین نے ایک دوسرے پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے۔ یہ تناؤ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرِ نگرانی مذاکرات جاری ہیں، جن کا مقصد تقریباً چار سال سے جاری اس جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔یوکرین نے حالیہ مہینوں میں روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے (انرجی انفراسٹرکچر) پر حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے، جس کا مقصد یوکرین میں اپنی فوجی مہم کے لیے ماسکو کے مالیاتی ذرائع کو ختم کرنا ہے۔دوسری جانب وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر دباؤ بڑھانے کیلئے ٹرمپ انتظامیہ کی کوششیں جاری ہیں جس کے تحت بدھ کوچار کمپنیوں اور ان سے وابستہ تیل بردار بحری جہازوں (ٹانکرز) پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ کمپنیاں وینزویلا کے تیل کے شعبے میں سرگرم عمل تھیں۔مشرقِ وسطیٰ میں یمن کے معاملے پر اوپیک کے پیدا کنندہ ممالک سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان بحران اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب جمعرات کو عدن کے ہوائی اڈے پر پروازیں معطل کر دی گئیں۔ یہ صورتحال 4 جنوری کو ہونے والے اوپیک پلس گروپ کے ورچوئل اجلاس سے ٹھیک پہلے پیدا ہوئی ہے جس میں پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اور اس کے اتحادی شامل ہیں۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین