اسلام آباد: سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ پر فوری نظر ثانی کی جائے تاکہ مشکلات کا شکار ملکی آٹو انڈسٹری اور اس سے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر وابستہ ہزاروں کارکنوں کی ملازمتوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
منگل کو یہاں ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملک اپنی مقامی صنعتوں کا تحفظ کرتا ہے،حکومت ایسے طویل المدتی وژن کو اپنائے جس سے آٹو سیکٹر میں پائیداری، مسابقت اور جدت کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ استعمال شدہ کاروں کی آمد سے مقامی آٹوموبائل مینوفیکچررز متاثر ہوں گے جو پہلے ہی پاکستان میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کر چکے ہیں اور ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کے ذریعے قومی خزانے میں نمایاں حصہ ڈالنے کے ساتھ بڑی تعداد میں روزگار فراہم کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقامی صنعت کے تحفظ سے نہ صرف روزگار میں اضافہ ہوگا بلکہ امپورٹ بل کو کم کرنے، زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے اور صنعتی ترقی و معاشی خود انحصاری کی راہ ہموار کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
