اسلام آباد :نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے جمعہ کو قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اراکین کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے دوران پاکستان کی فعال مصروفیات کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے فلسطین، جموں و کشمیر، کلائمیٹ جسٹس، عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات اور پائیدار ترقی کی فوری ضرورت کے بارے میں اثر انگیز بیان کا ذکر کیا۔
نائب وزیراعظم نے پاکستان کی وسیع سفارتی رسائی، اعلیٰ سطح کی تقریبات میں شرکت اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دو طرفہ ملاقاتوں، امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں تعمیری کردار اور فلسطینی اور کشمیری عوام کے حقوق کی اصولی وکالت کا بھی اپنے خطاب میں خاص طور پر ذکر کیا۔
نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے نیویارک میں مشاورت کے بعد سات برادر عرب اسلامی ممالک کے ساتھ پاکستان کی طرف سے جاری مشترکہ بیان کی تفصیلات سے بھی ایوان کو آگاہ کیا۔ بیان میں غزہ کو معقول انسانی امداد کی بلا روک ٹوک ترسیل، فلسطینیوں کی بے دخلی نہ ہو ، مکمل اسرائیلی انخلاء، غزہ کی تعمیر نو اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ امن کے لیے ایک قابل اعتبار راستہ بنانے پر زور دیا گیا جس کے تحت غزہ مکمل طور پر مغربی کنارے کے ساتھ مربوط رہے گا۔
انہوں نے پاکستان کے اس مستقل اور اصولی موقف کا اعادہ کیا کہ دو ریاستی حل ہی ایک منصفانہ اور دیرپا امن کا واحد قابل عمل راستہ ہے جس میں 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک متصل، آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے گلوبل صمود فلوٹیلا کو غیر قانونی طور پر روکنے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی سمندری قانون اور انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ پاکستان فلوٹیلا میں موجود اپنے شہریوں کی حفاظت اور ان کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے کے لیے سرگرمی سے سفارتی کوششوں پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے ایوان کو وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وائٹ ہائوس میں ہونے والی ملاقات کے بارے میں بھی بتایا جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔
انہوں نے خوشگوار تبادلوں، پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کی تعریف، مئی میں پاک بھارت جنگ بندی کے لئے سہولت کاری میں صدر ٹرمپ کے کردار اور زراعت، آئی ٹی، مائینز اور منرلز سمیت توانائی میں امریکی سرمایہ کاری کو مدعو کرتے ہوئے تجارت کو بڑھانے کے معاہدہ کا بھی ذکر کیا۔
