ریاض :وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کو سکیورٹی انوویشن کی طرف موڑنا وقت کی ضرورت ہے اور آن لائن سروسز حکومت اور شہریوں کے درمیان بنیادی رابطے کا ذریعہ بنتی جا رہی ہیں۔وہ ریاض میں منعقدہ گلوبل سائبر سکیورٹی فورم 2025 کے سیشن سے خطاب کر رہی تھیں جس کا عنوان “Trust in Action: Reimagining Citizen Services in a Cyber-First World” تھا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈیٹا بریچز اور سروس ڈسرپشن دنیا بھر میں سائبر سکیورٹی کے بڑے چیلنجز کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔سیشن میں شہری سروسز کے پورے لائف سائیکل میں سکیورٹی کے انضمام پر گفتگو ہوئی۔ شزا فاطمہ نے شناخت اور ویریفیکیشن کے جدید راستوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ سی ای آر ٹی انٹرلنکیجز، ریئل ٹائم مانیٹرنگ اور نیشنل سی ای آر ٹی کے ساتھ تیز رابطہ کاری سائبر سکیورٹی کو موثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
انہوں نے ٹیکنالوجی اپنانے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے زیرو ٹرسٹ ماڈل، کوانٹم ریزیلینٹ کرپٹوگرافی اور محفوظ فیڈریٹڈ ڈیجیٹل شناخت کے قیام پر زور دیا۔اس موقع پر سعودی عرب اور ملیشیا ء کے اعلیٰ حکام سمیت دیگر عالمی ماہرین نے بھی شرکت کی۔
