اسرائیل اور امریکا نے ایران پر ’پیشگی حملہ‘ کردیا ہے جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایرانی دارالحکومت تہران میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور مختلف علاقوں سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے دعویٰ کیا کہ حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم، وہ اس دوران تہران میں موجود نہیں تھے اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی حملے میں محفوظ رہے ہیں۔خبر ایجنسیوں کے مطابق تہران کے یونیورسٹی روڈ پر میزائل گرے جبکہ جمہوری ایریا میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تہران میں مہرآباد ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق تہران میں تین مقامات پر میزائل گرے ہیں۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران میں 30 اہداف پر 50 میزائل داغے گئے ہیں۔ ایران کے مقامی میڈیا کے مطابق کرمانشاہ، لورستان، تبریز، اصفہان اور کرج کے شہروں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یکے بعد دیگرے کئی دھماکے ہوئے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔الجزیرہ کے مطابق، اب تک ایرانی دارالحکومت پر ہونے والے اسرائیلی حملوں میں وزارتِ انٹیلی جنس، وزارتِ دفاع، ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم اور پارچین ملٹری کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا
