اسلام آباد
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے پاکستان میں ادویات اور میڈیکل ڈیوائسز کی برآمدات سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق دواسازی اور طبی آلات کی برآمدات میں 34 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ڈریپ کے مطابق یہ اضافہ منظوری اور رجسٹریشن کے عمل میں متعارف کرائی گئی اصلاحات، نظام میں بڑھتی شفافیت اور ڈیجیٹلائزیشن کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ مؤثر ریگولیٹری نظام کے ذریعے اربوں روپے کی بچت ممکن بنائی گئی، جس کا فائدہ عوام اور صنعت دونوں کو پہنچا۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ڈریپ میں اصلاحات اور شفافیت کے باعث جدید اور جان بچانے والی طبی ٹیکنالوجیز مریضوں تک بروقت پہنچ رہی ہیں۔ ادارہ اپنے ریگولیٹری امور کا تقریباً 70 فیصد ڈیجیٹل کر چکا ہے، جبکہ مارچ 2026 تک سو فیصدڈیجیٹلائزیشن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔آن لائن میڈیکل ڈیوائسز رجسٹریشن سسٹم اور ای۔آفس جیسے اقدامات سے انسانی غلطیوں اور تاخیر میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے نظام مزید شفاف اور تیز رفتار ہوا ہے۔ برآمدات کے فروغ کے لیے سرٹیفکیشن کے اجراء کے دورانیے میں بھی بڑی حد تک کمی کی گئی ہے۔ڈریپ کے مطابق ادویات کی برآمدی رجسٹریشن کا دورانیہ 60 دن سے کم ہو کر صرف 10 دن رہ گیا ہے، جبکہ FSC اور CoPP جیسے سرٹیفکیٹس 30 دن کے بجائے 5 دن میں جاری کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح میڈیکل ڈیوائسز کی رجسٹریشن کا دورانیہ بھی کم ہو کر تقریباً 20 دن رہ گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ون ونڈو سہولت اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے ذریعے پاکستان کو دواسازی کے شعبے میں خود کفیل بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ حکومتی جائزہ پلیٹ فارم business.gov.pk کے مطابق ڈریپ میں اصلاحات سے ریگولیٹری عمل کو سادہ اور مؤثر بنایا گیا ہے۔مزید بتایا گیا کہ نئی تھراپیز اور کینسر کے علاج سے متعلق مصنوعات کے لیے تیز رفتار منظوری کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت منظوری کا دورانیہ تین ماہ رہ گیا ہے۔ ادویات کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے قومی سطح پر کوالٹی کنٹرول لیبارٹری نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے، جبکہ قومی ویکسین پالیسی کا مسودہ بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ مقامی سطح پر API (Active Pharmaceutical Ingredients) کی تیاری کے لیے روڈمیپ پر کام جاری ہے۔
ڈریپ کے مطابق صوبائی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کو ISO 17025 اور WHO معیارات کے مطابق لانے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ ادارہ رجسٹریشن اور منظوری کے نظام میں شفافیت بڑھانے اور بہتری کے لیے اصلاحات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔واضح رہے کہ دسمبر 2025 میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کو ریفارم چیمپئن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا، جو ادارے کی اصلاحاتی کاوشوں کا عملی اعتراف
