39.2 C
Islamabad

8 فروری کا احتجاج ہر صورت ہو گا: وزیراعلی خیبرپختونخوا

خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ 8 فروری کا احتجاج ہر صورت ہوگا، البتہ جو مذاکرات کرنا چاہتے ہیں وہ مذاکرات کرتے رہیں

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے سینئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے انہیں براہِ راست مذاکرات کے لیے کوئی ہدایت نہیں دی، بات چیت کا ٹاسک محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو سونپا گیا ہے

وزیراعلیٰ کے پی کا کہنا تھا کہ وہ صوبائی معاملات پر بات چیت اور باہمی تعلقات بہتر بنانے کے لیے تیار ہیں، تاہم بانی پی ٹی آئی سے ان کی ملاقات نہیں کرائی جا رہی

انہوں نے زور دیا کہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ہونی چاہیے اور حکومت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو عوامی مفاد کے مطابق پالیسیاں تشکیل دینی چاہئیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر کوئی تقریب یا میٹنگ ہوئی تو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ضرور ملاقات کروں گا۔

انہوں نے پشاور کی ترقی کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ شہر کو آگے بڑھایا جائے گا، تاہم لاہور جیسی صورتحال نہیں ہوگی جہاں جلسے جلوسوں پر پابندیاں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو بھی پوری قوت کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا، لاہور اور کراچی کے دوروں کا مقصد عوام میں بیداری پیدا کرنا اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے عام کو متحرک کرنا ہے

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ان کی حکومت کی کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی ہے اور حکومت شفافیت، میرٹ، ترقی اور کرپشن کے خاتمے کے اصولوں پر کاربند ہے، ضم اضلاع میں ترقی کا عمل شروع ہونے سے عسکریت پسندی کا خاتمہ ممکن ہوگا۔

امن و امان کو حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ اس پر قابو پانے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں ، خود بھی کام کررہا ہوں اور اپنی ٹیم سے بھی کارکردگی چاہتا ہوں کیونکہ حکومت نے عملی تبدیلی لا کر دکھانی ہے۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبے میں بجلی کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ پیسکو کو صوبائی حکومت کے زیرانتظام لانے کے لیے قدم اٹھایا جائے۔

لاہور دورے کے دوران نامناسب زبان کے استعمال سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ وہ ردعمل تھا، تاہم اس پر معذرت کر لی گئی ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ کابینہ میں توسیع جلد کی جائے گی اور جن ارکان پر الزامات ہیں، ان کا کابینہ میں شامل ہونا ممکن نہیں ہوگا

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین