32.1 C
Islamabad

وفاق نے خیبر پختونخواہ کو 6.57ٹریلین روپے ادا کیے

وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق خیبرپختونخوا نے جولائی 2010 سے فیڈرل ڈیویژبل پول سے مجموعی طور پر 6.57 ٹریلین روپے وصول کیے ہیں، اس رقم میں صوبے کا این ایف سی ایوارڈ کے تحت باقاعدہ حصہ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات کی مد میں دیا جانے والا اضافی معاوضہ بھی شامل ہے۔وزارتِ خزانہ کے مطابق جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا (کے پی) کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت اس کے حصہ کے طور پر 5,867 ارب روپے منتقل کیے جبکہ صوبے کے جنگِ دہشت گردی سے متعلق اخراجات کو پورا کرنے کے لیے اضافی 705 ارب روپے بھی فراہم کیے گئے۔ایک بیان کے مطابق ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاقی قابلِ تقسیم پول میں صوبوں کے مجموعی حصے میں سے خیبر پختونخوا کا حصہ 14.62 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران صوبے پر پڑنے والے غیر معمولی بوجھ کے اعتراف میں غیر منقسم تقسیم پذیر فنڈ کے اضافی 1 فیصد حصے کو خصوصی طور پر خیبر پختونخوا کے لیے مختص کیا گیا۔اگرچہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ اصل میں 5 سال کی مدت کے لیے بنایا گیا تھا تاہم بعد کے این ایف سی ایوارڈز (آٹھواں، نواں اور دسواں) پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے فریم ورک کو جاری رکھنا ضروری ہوگیا۔ اسی طرح، خیبر پختونخوا کو اس کا واجب حصہ موصول ہوتا رہا جس میں جنگِ دہشت گردی کے لیے اضافی مختص شدہ رقم بھی شامل ہے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق وفاقی حکومت صوبوں کو این ایف سی کے حصے دو ہفتے کی بنیاد پر جاری کرتی رہی ہے اور اس حوالے سے کوئی بقایا واجبات موجود نہیں ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ حال ہی میں 17 دسمبر 2025 کو خیبر پختونخوا حکومت کو 46.44 ارب روپے کی رقم جاری کی گئی جو وفاقی حکومت کی بروقت ادائیگی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
وزارتِ خزانہ نے کہا کہ این ایف سی کے علاوہ، وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کو براہِ راست منتقلیوں کا بھی بلا تعطل سلسلہ یقینی بنایا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک تیل اور قدرتی گیس پر رائلٹی، گیس ڈویلپمنٹ سرچارج، قدرتی گیس پر ایکسائز ڈیوٹی اور دیگر متعلقہ عنوانات کے تحت 482.78 ارب روپے منتقل کیے گئے۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین