37.1 C
Islamabad

پاکستان کی 80 فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں: رپورٹ

پاکستان کی 80 فیصد ابادی کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں،یہ انکشاف ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے

رپورٹ کے مطابق  آبادی میں تیز رفتار اضافہ، موسمیاتی تغیرات اور خراب انتظامی ڈھانچہ پاکستان کے آبی وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ ڈال رہے ہیں

تفصیلات کے مطابق یہ رپورٹ ایشیا بھر میں پانی کے تحفظ سے متعلق سب سے جامع تجزیہ سمجھا جاتی ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 80 فیصد سے زائد آبادی کو محفوظ پینے کے پانی کی سہولت دستیاب نہیں، جس سے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا پھیلاؤ عام ہے

زرعی شعبے میں زیرِ زمین پانی کے حد سے زیادہ استعمال نے اس کے ختم ہونے اور آرسینک آلودگی میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ میں یاد دلایا گیا کہ پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی 1972 میں 3 ہزار 500 مکعب میٹر تھی جو 2020 تک کم ہو کر صرف ایک ہزار 100 مکعب میٹر رہ گئی۔

اس کے علاوہ پاکستان کے دیہی گھریلو پانی کے تحفظ پر بھی مسلسل دباؤ ہے، جس کی بنیادی وجوہات ناقص سروس ماڈلز، کمزور نگرانی اور آلودگی کا برقرار رہنا ہیں، اگرچہ حفظانِ صحت اور صحت کے اشاریوں میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاشی آبی تحفظ بھی متاثر ہے، جس کی وجہ فی کس پانی کی کمی، ناکافی ذخیرہ اور صنعتی سرگرمیوں کے لیے غیر مؤثر طور پر مانیٹر کیے جانے والے زیرِ زمین پانی پر بھاری انحصار ہے۔

رپورٹ کے مطابق شہری آبی تحفظ میں معمولی بہتری آئی ہے، مگر بڑھتی ہوئی طلب، بغیر علاج گندے پانی کا اخراج، اور شہری سیلاب نے ڈھانچے اور خدمات کی فراہمی کو شدید متاثر کیا ہے

ماحولیاتی آبی تحفظ میں بھی ہلکی کمی دیکھی گئی، کیونکہ تیزی سے بڑھتی آبادی، صنعتی سرگرمیاں اور بغیر علاج گندا پانی آبی ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

پانی سے جڑی آفات کے حوالے سے تحفظ ابتدائی برسوں میں کم ہوا اور بعد ازاں جمود کا شکار رہا، جب کہ ملک بڑے سیلابوں، خشک سالی اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلوف) جیسے واقعات سے متاثر ہوتا رہا۔

مجموعی طور پر، پاکستان کا قومی آبی تحفط اسکور 2013 سے 2025 تک 6.4 پوائنٹس بہتر ہوا ہے۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین