39.4 C
Islamabad

انتظامی اور پنشن اخراجات 160 ارب سے متجاوز

حکومت کے سول ایڈمنسٹریشن اور پنشن کی ادائیگیوں پر اخراجات گزشتہ 5 برسوں کے دوران مسلسل بڑھتے رہے ہیں، سخت سرکاری کفایت شعاری پالیسی اور جارحانہ انداز میں عملے کی کمی کے باوجود رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ان اخراجات میں دوہرے ہندسے کا اضافہ دیکھا گیا ہے

 وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے ستمبر تک جاری پہلی سہ ماہی میں ’سول حکومت کے انتظام‘ کے اخراجات میں 13 فیصد اضافہ ہوا، موجودہ مالی سال میں یہ اخراجات بڑھ کر 161 ارب 20 کروڑ روپے تک پہنچ گئے، جو گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران 142 ارب 50 کروڑ روپے تھے۔

تفصیلات کے مطابق یہ اضافہ اُس وقت سامنے آیا ہے، جب حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ نمایاں عملے میں کمی اور ساختی اصلاحات کے ذریعے اپنے اخراجات کم کر رہی ہے۔یہ اضافہ اس لیے بھی قابلِ ذکر ہے کہ حکومت نے گزشتہ سال ڈیڑھ لاکھ سے زائد آسامیوں کو ختم کر دیا تھا اور مختلف وزارتوں، ڈویژنز اور اُن کے ماتحت اداروں میں انضمام اور بندشوں کے ذریعے ’رائٹ سائزنگ‘ جاری ہے۔

مزید یہ کہ تقریباً ایک ہفتہ قبل وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا تھا کہ حکومت نے مختلف محکموں میں 54 ہزار مزید خالی آسامیوں کو ختم کر دیا ہے، جس سے خزانے کو سالانہ 56 ارب روپے سے زائد کی بچت ہو گی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مالیاتی اصلاحات کے تحت کئی وزارتوں اور ڈویژنز کے انضمام اور ساختی تبدیلیوں کا عمل بھی جاری ہے۔

اخراجات کے بڑھنے کا یہ رجحان نیا نہیں، گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی سول حکومت کے اخراجات میں 8 فیصد اضافہ ہوا تھا، جب کہ اسی عرصے کے دوران مالی سال 2024 میں یہ اضافہ 29 فیصد تھا جو مالی سال 2023 کے مقابلے میں تھا۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی سال 2022 کی پہلی سہ ماہی میں سول حکومت کے انتظامی اخراجات 89 ارب 50 کروڑ روپے تھے، جو اب تقریباً 80 فیصد بڑھ چکے ہیں، پورے مالی سال کے دوران سول حکومت کے انتظامی اخراجات کا بل 892 ارب روپے سے تجاوز کر گیا تھا۔

اسی طرح پنشن کے اخراجات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں، موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پنشن کی ادائیگیاں 249 ارب 50 کروڑ روپے رہیں، جو پچھلے سال اسی عرصے میں 223 ارب روپے کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہیں

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین