گلگت: گلگت بلتستان میں عام انتخابات کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت کی آئینی مدت 24 نومبر 2025 کو مکمل ہو رہی ہے، جس کے بعد دو ماہ کے اندر نئے عام انتخابات کرائے جائیں گے۔
چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان کے مطابق صاف، شفاف اور غیر جانب دارانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومت کے اختیارات آئین و قانون کے تحت محدود کر دیے گئے ہیں، اور حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی فیصلے سے قبل الیکشن کمیشن سے این او سی حاصل کرے۔
چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ گلگت بلتستان کے 10 اضلاع کے 24 حلقوں کی انتخابی فہرستیں آویزاں کر دی گئی ہیں۔ 2020 کے عام انتخابات میں ووٹرز کی تعداد 7 لاکھ 43 ہزار تھی جبکہ اب تک یہ تعداد بڑھ کر 7 لاکھ 77 ہزار 414 ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ایک لاکھ 24 ہزار نئے شناختی کارڈز بنائے جا چکے ہیں، تاہم 75 ہزار شہریوں کا اندراج ووٹر لسٹ میں تاحال نہیں ہوا۔ چیف الیکشن کمشنر نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ الیکشن شیڈول جاری ہونے سے قبل اپنا اندراج لازمی کروائیں۔
راجہ شہباز خان نے مزید بتایا کہ نئے اندراج کے بعد رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 91 ہزار 124 تک پہنچ جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن ایکٹ کی دفعہ 57 کے تحت پولنگ ڈے کے لیے صدرِ پاکستان کو سمری ارسال کی جائے گی، جس کے مطابق عام انتخابات فروری 2026 میں متوقع ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے یہ بھی بتایا کہ بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندیاں مکمل کر لی گئی ہیں اور ان کے انعقاد کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آئین و قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے اور الیکشن پلان کی باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے۔
