اسلام آباد: اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود کی قیادت میں ایک وفد نے پاکستان میں سری لنکا کے ہائی کمشنر فریڈ سنی ویراتنے سے ملاقات کی۔ وفد میں ظفر بختاوری (سیکرٹری جنرل یونائیٹڈ بزنس گروپ)، طاہر ایوب (سینئر نائب صدر آئی سی سی آئی) اور چوہدری عرفان (نائب صدر آئی سی سی آئی) شامل تھے۔
وفد نے ہائی کمشنر کو ان کی تعیناتی پر مبارکباد پیش کی اور پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
ہائی کمشنر فریڈ سنی ویراتنے نے وفد کو سری لنکا کی حالیہ سیاسی و معاشی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ 2019 کے بم دھماکوں، کوویڈ 19 وبا اور بدانتظامی کے باعث ملک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم موجودہ حکومت کی انسدادِ بدعنوانی پالیسیوں اور اقتصادی اصلاحات کے باعث اب حالات بتدریج مستحکم ہو رہے ہیں اور معیشت بہتر سمت میں گامزن ہے۔
انہوں نے پاکستان اور سری لنکا کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) کو ازسرِنو فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیکرٹری سطح اور وزارتی سطح پر رابطے بڑھائے جائیں تاکہ فارماسیوٹیکل، زراعت، آلو، چاول اور کٹلری سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔
ہائی کمشنر نے اسلام آباد کو کاروباری وفد سری لنکا بھیجنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان فنانس، زراعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سری لنکن ہائی کمیشن دونوں ممالک کے تاجروں کے درمیان کاروباری، ثقافتی روابط بڑھانے میں بھرپور تعاون کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی اور لاہور سے سری لنکا کے لیے دو براہِ راست پروازیں شروع ہو چکی ہیں جبکہ اسلام آباد سے بھی جلد براہِ راست پرواز کے آغاز پر کام جاری ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سیاحت، تجارت اور روابط میں مزید اضافہ ہوگا۔
صدر آئی سی سی آئی سردار طاہر محمود نے ہائی کمشنر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان زرعی تجارت بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں، خصوصاً آلو اور دیگر زرعی اجناس کی برآمد کے شعبے میں کافی گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اور اسٹاک مارکیٹ مثبت سمت میں جا رہی ہیں اور دونوں ممالک کو موجودہ تجارتی رکاوٹوں کو ختم کر کے باہمی فوائد حاصل کرنے چاہئیں۔
انہوں نے ہائی کمشنر کو اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے دورے کی دعوت بھی دی تاکہ وہ پاکستانی تاجروں سے ملاقات کر کے مشترکہ کاروباری مواقع پر بات کر سکیں۔
ظفر بختاوری (سیکرٹری جنرل یو بی جی) نے پاکستان اور سری لنکا کے تاریخی دوستانہ تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سری لنکا پہلا ملک تھا جس نے اس وقت پاکستان میں اپنی کرکٹ ٹیم بھیجی جب دیگر ممالک نے پاکستان کا دورہ معطل کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی اور خلوص پر مبنی دوستی کی علامت ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم ایک ارب امریکی ڈالر تک پہنچ سکتا ہے اور زور دیا کہ پاکستان اور سری لنکا کو اس ہدف کے حصول کے لیے مزید قریبی تعاون کرنا چاہیے۔
طاہر ایوب (سینئر نائب صدر آئی سی سی آئی) نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کو زرعی شعبے میں تعاون بڑھانا چاہیے اور برآمدات کے نئے مواقع تلاش کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے اور دونوں ممالک بہتر تجارتی شراکت داری سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ملاقات کا اختتام دونوں ممالک کے اس عزم کے ساتھ ہوا کہ وہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تجارتی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے سرکاری و نجی سطح پر تعاون جاری رکھیں گے۔
