ہری پور: مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما، سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا و سابق سینیٹر پیر صابر شاہ نے کہا ہے کہ زیتون کی پیوند کاری مہم پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے مگر نتیجہ صفر نکلا ہے،اب وقت آ گیا ہے کہ ذمہ داروں سے جواب طلبی ہو اور اہل افسران کو تعینات کیا جائے،میڈیا سے گفتگو میں پیر صابر شاہ نےہری پور میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور زیتون کی پیوند کاری مہم کی ناکامی پر تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی
توازن درہم برہم، کلاؤڈ برسٹ اور سیلابی تباہ کاریاں بڑھ گئیں ہیں،ڈی ایف او کی کمزور گرفت اور محکمانہ غفلت نے نظام کو مفلوج کر دیا ہے، ضلع ہری پور میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی نے ماحولیاتی توازن کو شدید متاثر کر دیا ہے،انہوں نے کہا کہ ڈی ایف او ہری پور کی کمزور انتظامی گرفت اور متعلقہ محکموں کی غفلت کے باعث جنگلات کا تیزی سے صفایا ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں پورے ضلع کا موسم تبدیل ہو چکا ہے،پیر صابر شاہ نے کہا کہ درختوں کی اندھا دھند کٹائی نہ صرف قدرتی حسن کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی اور درجہ حرارت میں اضافہ کا سبب بھی بن رہی ہے،انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو خطہ شدید ماحولیاتی بحران سے دوچار ہو سکتا ہے،انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں کلاؤڈ برسٹ اور سیلابی تباہ کاریوں میں اضافہ اسی ماحولیاتی بگاڑ کا نتیجہ ہے،پیر صابر شاہ نے محکمہ جنگلات کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور آئندہ کے لیے مربوط حکمتِ عملی ترتیب دی جائے تاکہ قدرتی وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے،پیر صابر شاہ نے مزید کہا کہ ضلع بھر میں زیتون کے پودوں کی پیوند کاری کی مہم بری طرح ناکام ہوئی،جس پر کروڑوں روپے کا قومی سرمایہ خرچ کیا گیا،انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ مہم ناکام کیوں ہوئی؟ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اور اس پر آنے والے اخراجات کا حساب کون دے گا؟انہوں نے کہا کہ زیتون کے منصوبے کی ناکامی کے اسباب اور متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر فوری تحقیقات کرائی جائیں تاکہ عوامی وسائل کے ضیاع کا پتہ لگایا جا سکے، پیر صابر شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ ضلع ہری پور میں اہل، دیانتدار اور قابل افسران کو تعینات کیا جائے تاکہ ایسے عوامی منصوبوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے اور ماحولیاتی و ترقیاتی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
